ہفتہ‬‮ ، 29 اگست‬‮ 2026 

مردوں کی عمر بڑھنے میں تنخواہ کم اور عورت کی تنخواہ مستحکم رہتی ہے

datetime 13  اپریل‬‮  2015 |

اسلام آباد (نیوز ڈیسک) نوجوانی میں ہر فرد یہ سوچتا ہے کہ عمر بڑھنے پر تجربے کے ساتھ ساتھ تنخواہ بھی بڑھتی جائے گی تاہم عمر بڑھنے پر یہ ادراک ہوتا ہے کہ کم سنی میں ہی تنخواہ میں جتنے زیادہ اضافے کی کوشش کی جائے، وہی ٹھیک ہوتا ہے۔ تنخواہوں کے معاملے میں عام افراد کی رائے اور اصل صورتحال کے حوالے سے کئے گئے ایک سروے میں یہ امر سامنے آیا ہے کہ مردوں کی تنخواہیں ایک خاص حد کو جانے کے بعد کم ہونے لگتی ہیں جبکہ خواتین کی تنخواہ ایک خاص حد کو جانے کے بعد مستحکم ہوجاتی ہے۔ پے سکیل ڈاٹ کام پر منعقد کئے گئے اس سروے کے مطابق خواتین کی تنخواہ 39برس کی عمر کو اپنے عروج پر ہوتی ہے۔ عام طور پر یہ تنخواہ 60ہزار ڈالر سالانہ کے لگ بھگ ہوتی ہے۔ اس کے بعد ان کی تنخواہ میں نوکری کی تبدیلی کی وجہ سے معمولی اونچ نیچ تو متوقع ہوسکتی ہے تاہم مجموعی طور پر مقدار میں زیادہ تبدیلی نہیں آتی ہے۔ دوسری جانب مردوں کے معاملے میں عمر کی یہ حد49برس ہے۔اس حد تک چھونے پر مردوں کی اوسطاً تنخواہ95 ہزار سالانہ کے لگ بھگ ہوتی ہے۔ اس کے بعد مردوں کی تنخواہ بتدریج زوال کا شکار ہونے لگتی ہے۔ اس بارے میں معاشی منصوبہ بندی کی ماہر لارین کول کہتی ہیں کہ بچپن سے ہمیں یہ سکھایا جاتا ہے کہ جیسے جیسے ہمارا تجربہ اور وقت گزرے گا، تنخواہ بڑھتی رہے گی۔ بدقسمتی سے تنخواہ کی بڑھوتری کی نشاندہی کرتی لکیر تصور میں جس قدر افقی رخ پر بڑھتی ہوئی محسوس ہوتی ہے، عام طور پر یہ اس قدر سیدھے طریقے سے آگے نہیں بڑھتی ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ تعلیم کی تکمیل کے بعد تیس کی عمر کو پہنچنے تک انسان اپنی تنخواہ میں پوری زندگی کے اضافے کا 60فیصد تک حاصل کرچکا ہوتا ہے۔ یہ اضافہ جس قدر شاندار ہوگا، مستقبل میں اس میں اضافہ اسی قدر ہوگا، اس لئے کوشش کرنی چاہئے کہ تنخواہ میں اضافے کیلئے پہلی نوکری سے ہی ہر ممکنہ کوشش کی جائے۔ اس کے بعد خواتین کی تنخواہ میں بڑھوتری کی شرح کم ہونے لگتی ہے۔39برس کی عمر تک خواتین کی تنخواہ میں اضافے کی شرح صرف بیس فیص تک رہ جاتی ہے۔ اس کے بعد تنخواہ میں معمولی اضافے کی امید تو کی جاسکتی ہے تاہم یہ اضافہ بمشکل نو فیصد تک ہوسکتا ہے۔
دوسری جانب مردوں کے معاملے میں تنخواہ میں اضافے کا سلسلہ تیس برس کے بعد بھی جاری رہتا ہے۔ مرد جس وقت 48 برس کے ہوتے ہیں، اس وقت تک ان کی تنخواہ تیس برس والی عمر کے مقابلے میں45 فیصد تک بڑھ چکی ہوتی ہے۔ یہ اعداد و شمار اوسطاً بیان کئے گئے ہیں اور پیشے کے اعتبار سے تنخواہ میں اضافے کا طریقہ کار بھی تبدیل ہوسکتا ہے جیسا کہ وکلا کے معاملے میں عمر میں اضافہ کامیابی میں بھی اضافے کا باعث ہوتا ہے۔
تنخواہوں میں اضافے کے ان اعداد و شمار کو دیکھتے ہوئے نوجوانوں کو ماہرین کا یہی مشورہ ہے کہ اپنی پہلی ہی نوکری سے تنخواہ کے معاملے پر خصوصی توجہ دیں۔ خواتین اور مردوں کی تنخواہ میں اضافے کی شرح اور مقدار میں فرق کی بڑی وجہ پیشوں میں فرق بھی تھی۔ مرد انجینیئرنگ، کمپیوٹر اور مینجمنٹ جیسے مضامین کا انتخاب کرتے ہیں جن میں وقت کے ساتھ ساتھ تنخواہ بڑھنے کے امکانات بڑھتے ہی رہتے ہیں۔ کوشش کریں کہ اس عمر سے ہی بچت کی عادت ڈالی جائے۔تیس برس کی عمر میں داخل ہونے پر نوکری کے معاملے میں صبر نہیں کرنا چاہئے بلکہ بہتر سے بہتر نوکری کی تلاش جاری رکھنی چاہئے۔ اگر آپ کو سال میں دو بار مختلف اداروں کی جانب سے انٹرویو کے لئے طلب کیا جاتا ہے تو اس کا مطلب ہے کہ بہتر نوکری کیلئے آپ کی کوششیں درست سمت میں ہیں۔ چالیس کی برس میں داخل ہونے پر اپنی تنخواہ اور نوکری کے معاملے میں بے حد محتاط طور پر انتخاب کریں کیونکہ اب آپ اس دور میں داخل ہونے والے ہیں جب آپ کی تنخواہ بتدریج کم ہوگی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



سنت یہ بھی ہے


ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…