ہفتہ‬‮ ، 29 اگست‬‮ 2026 

ماں نے برسوں کی محنت کے بعد ذہنی معذور بچے کو بولنا سکھا دیا

datetime 12  اپریل‬‮  2015 |

ایتھیوپیا(نیوز ڈیسک ) ماں اپنی اولاد کے لیے کیا جتن نہیں کرتی اور جب بچہ اسے ماں کہہ کر پکارے تو اسے جو سکون ملتا ہے اس کا دنیا میں کوئی نعم البدل نہیں ایسا ہی سکون پانے کے لیے افریقی نژاد امریکی خاتون نے انتھک محنت کی جس کے بعد اس نے اپنے آٹزم کا شکار بچے کو بولنا سکھا دیا۔
ایتھیوپیا کی خاتون زیمی یونس امریکا میں بیوٹیشن کورس مکمل کرنے کے بعد اپنے ملک میں اس کی تعلیم دے رہی تھیں، ان کا ایک بیٹا آٹزم کے مرض کا شکار تھا جس کے باعث وہ بولنے اور سمجھنے سے قاصر تھا، خاتون نے بیٹے کی خاطر بیوٹیشن کا کام چھوڑ کر آٹزم زدہ بچوں کو تعلیم دینے کی ٹھان لی جس کے لیے وہ دوبارہ امریکا چلی گئیں اور وہاں وہاں آٹزم زدہ بچوں کو پڑھانے کی تعلیم حاصل کی۔
خاتون نے طویل محنت کے بعد اس مرض کے شکار بچوں کو پڑھانے اور سکھانے کا ہر طریقہ معلوم کیا اور اس دوران اس نے اپنے بیٹے کو 14 سال تک ایتھیوپیائی الفاظ اور آوازیں سکھائیں جب کہ ساتھ ساتھ تصاویر بھی دکھاتی رہی، خاتون کی اس انتھک محنت کے بعد ایک روز مایوسی کی گھٹا چھٹی جب اس کے بیٹے نے پہلی بار ایک واضح جملہ بولا جس میں اس نے اپنی ماں سے محبت کا اظہار کرتے ہوئے’’ Love you Mama‘‘کہا جسے سن کر اس کی ماں کی خوشی کی انتہا نہ رہی اور وہ خوشی سے رو پڑیں۔

مزید پڑھئے:شہد کی مکھی جڑواں بچوں کی قاتل کیسے بنی؟

زیمی نامی خاتون نے اپنی اس کامیابی کے بعد ایتھیوپیا میں آٹزم کے شکار بچوں کے لیے ایک اسکول کھولا ہے جہاں ایسے 80 ایسے بچوں کو تعلیم دے رہی ہیں جو آٹزم یعنی ذہنی معذوری کے باعث سیکھنے کی صلاحیت میں انتہائی کمزور ہوتے ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



سنت یہ بھی ہے


ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…