ہفتہ‬‮ ، 29 اگست‬‮ 2026 

جنسی زیادتی کا نشانہ بنانے والے شخص کے نام متاثرہ نوجوان لڑکی کا کھلا خط،انٹرنیٹ پر تہلکہ مچادیا

datetime 11  اپریل‬‮  2015 |

لندن (نیو ز ڈیسک ) جنسی جرائم کی شکار اکثر خواتین خود کو ہی گناہ گار سمجھنا شروع کردیتی ہیں اور اس بدقسمتی کی وجہ معاشرے کی بے حسی ہے جو مظلوموں کو بھی مجرموں کی صف میں کھڑا کردیتی ہے، لیکن ایک نوجوان برطانوی طالبہ نے خاموش رہنے کی بجائے اپنی عزت پر حملہ کرنے والے مجرم کو سرعام شرمسار کرنے کی مہم شروع کردی ہے۔

بیس سالہ آئیون ویلز 11 اپریل کی صبح شمالی لندن میں اپنے گھر کی جانب جارہی تھیں کہ ایک جنسی درندے نے ان پر حملہ کردیا۔ آئیون کہتی ہیں کہ وہ ایک انڈرگراﺅنڈ سٹیشن سے اپنے گھر جارہی تھیں کہ ایک شخص نے ان کا تعاقب کیا اور پھر موقع پاکر انہیں بالوں سے کھینچ کر دیوار کے ساتھ دے مارا۔ حملہ آور نے ان کے جسم کو نوچنا شروع کردیا جس کے نتیجے میں ان کا لباس پھٹ گیا لیکن دریں اثناءان کی چیخ و پکار سن کر ان کی فیملی اور ہمسائے ان کی مدد کو پہنچے جبکہ حملہ آور فرار ہوگیا۔
آکسفورڈ یونیورسٹی کی طالبہ آئیون نے اس ظلم پر خاموش رہنے کی بجائے یونیورسٹی کے میگزین “Cherwell” میں حملہ آور کے نام ایک کھلا خط لکھا ہے جس میں انہوں نے بتایا ہے کہ وہ اس بدمعاشی سے خوفزدہ نہیں ہوں گی اور نہ ہی ان کی فیملی اور دوست کسی درندے سے خوفزدہ ہوکر اپنے معمولات میں تبدیلی کریں گے۔ وہ کہتی ہیں کہ وہ معمول کے مطابق آخری ٹرین استعمال کرتی ہیں اور ان کے پیارے بھی ایسا ہی کرتے ہیں لہذا جنسی درندے کو جان لینا چاہیے کہ اسے شکست ہوچکی ہے اور اس کے حملے کا شکار ہونے والی لڑکی عزم اور اعتماد کے ساتھ کھڑی ہے۔
آئیون نے #NotGuilty کے نام سے ایک آن لائن مہم بھی شروع کی ہے تاکہ جنسی ظلم کا شکار ہونے والوں کو بتاسکیں کہ وہ بے قصور ہیں اور ان پر حملہ کرنے والے مجرم اور درندے ہیں۔ ان کی مہم کو بے پناہ حمایت حاصل ہورہی ہے اور انٹرنیٹ صارفین ان کی ہمت اور عزم کو خوب سراہ رہے ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



سنت یہ بھی ہے


ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…