منگل‬‮ ، 17 فروری‬‮ 2026 

بلیوں کے لیے بھی اولڈ ہوم تیار

datetime 3  مارچ‬‮  2015 |

برطانیہ(نیوز ڈیسک ) کاﺅنٹی لنکاشائر میں بلّیوں کے لیے اولڈ ہوم قائم کیا گیا ہے اور کہا جارہا ہے کہ عمررسیدہ بلّیوں کی دیکھ بھال کے لیے قائم کیا جانے والا یہ دنیا کا پہلا اولڈ ہوم ہے۔ اس کے مکینوں کی تعداد 80 تک پہنچ گئی ہے۔ ایک طرح سے یہ بلیوں کی آخری آرام گاہ ہے کیوں کہ وہ آخری سانس تک یہاں قیام کریں گی۔یہ اولڈ ہوم یا ریٹائرمنٹ ہوم بالخصوص ان مالکان کو ذہن میں رکھتے ہوئے قائم کیا گیا ہے جو یہ سوچ کر پریشان ہوں کہ ان کے مرنے کے بعد ان کی پالتو بلی کا کیا ہوگا۔ اس اولڈ ہوم کو ”لنکاشائر ٹرسٹ فار کیٹس“ کا نام دیا گیا ہے۔ اولڈ ہوم کی ویب سائٹ پر بلیوں کے مالکان کی توجہ اس جانب دلائی گئی ہے کہ ہم سب یہ سمجھتے ہیں ہمیشہ زندہ رہیں گے، حالاں کہ ایسا نہیں ہے۔ ہمیں یہ بھی سوچنا چاہیے کہ اگر ہماری زندگی اپنے پالتو جانوروں سے پہلے ختم ہوگئی تو ان کا کیا ہوگا۔“ان کی اس پریشانی کو حل کرنے کے لیے ہی جین ہلز نے یہ ٹرسٹ قائم کیا ہے۔ یہ منفرد اولڈ ہوم اوسوبائی نامی گاو¿ں کے قریب سات ایکڑ رقبے پر قائم کیا گیا ہے۔ ٹرسٹ کی عمارت تین بڑے کمروں پر مشتمل ہے جن میں ہیٹنگ کا مرکزی نظام موجود ہے۔ کمروں میں دروازے جنوب کی طرف بنائے گئے ہیں تاکہ بلیاں جی بھر کر ’ غسل آفتابی‘ سے لطف اندوز ہوسکیں۔ اولڈ ہوم میں بلیوں کو اعلیٰ معیار کی خوراک فراہم کی جاتی ہے۔ ان کے لیے آرام دہ بستر، سوفے اور دیگر سہولیات مہیا کی گئی ہیں۔ظاہر ہے کہ یہ اولڈ ہوم کوئی ’ یتیم خانہ‘ نہیں ہے۔ البتہ مالکان سے فیس صرف ایک بار لی جاتی ہے جو 850 پاو¿نڈ ہے۔ مستقبل میں ہونے والے تمام اخراجات ٹرسٹ خود برداشت کرتا ہے۔ ان میں بلیوں کے علاج معالجے اور آپریشن وغیرہ پر ہونے والے اخراجات بھی شامل ہیں۔ مالکان کی جانب سے ٹرسٹ کے حوالے کی جانے والی بلیوں کے علاوہ یہاں لاوارث بلیوں کی بھی دیکھ بھال کی جاتی ہے۔ آوارہ اور لاوارث بلیاں، جانور پالنے کے خواہش مند افراد کے حوالے بھی کی جاتی ہیں۔ ان بلیوں کو ملاکو ٹرسٹ میں جانوروں کی تعداد 400 ہے۔



کالم



وہ واقعہ جو کتاب میں نہیں


1999ء میں دو وزیراعظم ہانگ کانگ میں ایک ہی ہوٹل…

بخاریؒ کو امام بنانے والے لوگ

نویں صدی کا شہر بخاراتھا اور اس شہر میں ایک سادہ…

شوگر کے مریضوں کے لیے

گرو زاہد سے میرا رابطہ ایک ویڈیو کلپ سے ہوا تھا‘…

بسنت کے معاملے میں

یہ آج سے پندرہ برس پرانی بات ہے‘ میں اپنے بچوں…

بٹرفلائی افیکٹ

وہ دکان کے سامنے پریشان کھڑی تھی‘ اس کے بال الجھے…

آئل اینڈ سپیس وار

مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…

محبت تا ابد

وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…

اصفہان میں دو دن

کاشان سے اصفہان کے لیے دو راستے ہیں‘ پہلا راستہ…

کاشان میں ایک دن

کاشان قم سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے‘…

قم میں آدھا دن

ہم تیسرے دن قم روانہ ہو گئے‘ قم تہران سے ڈیڑھ…

تہران میں کیا دیکھا (سوم)

مجھے امام خمینی کے تین مرلے کے گھر کے بعد شاہ…