جمعرات‬‮ ، 17 ستمبر‬‮ 2026 

مرے ہوئے شوہر نے بیوی کوگلدستہ بھیج ڈالا

datetime 19  فروری‬‮  2015 |

کسی نے سچ ہی کہا ہے کہ محبت کبھی مر نہیں سکتی اور اسی لیے محبت کرنے والے مرنے کے بعد جسمانی طور پر تو جدا ہوجاتے ہیں لیکن ان کی یادیں پھولوں کی خوشبو کی طرح ذہن میں ترو تازہ رہتی ہیں اسی طرح کی ایک واقعہ امریکا میں پیش آیا جہاں بیوی کو شوہر کے مرنے کے بعد اس کی طرف سے ویلنٹائن ڈے پر گلدستہ موسول ہوا جسے دیکھ کر حیرانگی کی تصویر بن گئی۔

یوں تو ویلنٹائن ڈے پر بہت سی خواتین کو اپنے ایسے چاہنے والوں کی طرف محبت کے پیغامات اور پھولوں کے تحائف ملتے ہیں جس کی ان کو توقع بھی نہ ہوئی لیکن امریکا میں ایک حیران کن واقعہ پیش آیا جہاں کیسپر کی رہائشی خاتون شیلے گولےکو اس کےمردہ شوہر جم گولتے کی جانب سے بھیجا گیا محبت بھرا گلدستہ موصول ہوا جسے دیکھ کر پہلے تو وہ ایک لمحے کے لیے سکتے میں آگئی لیکن پھر اسے یہ لگا کہ کہیں یہ تحفہ اس کے بچوں کی طرف سے نہ بھیجا گیا ہو مگر پھول فروش سے اس بات کی تصدیق کی کہ یہ گلدستہ اس کے شوہر کی ہی جانب سے بھیجا گیا ہے اور اسے آنے والے دنوں میں اس طرح کے اور تحائف ملیں گے۔

دوسری جانب خاتون کے مطابق اس کا شوہر 8 ماہ قبل دماغ کے کینسر کی وجہ سے انتقال کر چکا ہے لیکن وہ دونوں ایک دوسرے سے بے انتہا محبت کرتے تھے اور اس کی جدائی اس کے لیے بہت بڑا صدمہ تھا جب کہ اس کےشوہر نے اسے اپنی محبت کی یاد دلانے کے لیے یہ منصوبہ بنایا کہ یاد گار مواقع پر اس کی جانب سے تازہ پھولوں کا تحفہ اس کی بیوی کے لیے پہنچایا جائے اور اس کے لیے ایک پھول فروش کو ذمہ داری سونپی گئی تھی جس نے ویلنٹائن ڈے پر پہلا گلدستہ اس خاتون کو پیش کیا جس پر اس کے شوہر کی جانب سے محبت بھرا پیغام بھی تھا جب کہ خاتون کا کہنا ہے کہ اس کے شوہر نے یہ آئیڈیا فلم ’’ پی ایس آئی لو یو‘‘ سے لیا ہے۔

خاتون کے شوہر کی جانب سے بھیجے گئے اس گلدستے کے ساتھ یہ ویلنٹائن کی مبارکباد، خود کو مضبوط رکھنے اور اپنی ہمیشہ قائم رہنے والی محبت کا اظہار کا پیغام تھا جسے پڑھنے کے بعد خاتون کا کہنا تھا کہ وہ اپنے جذبات پر قابو نہ رکھ سکی اور بے ساختہ اس کے آنسو نکل گئے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…