جمعرات‬‮ ، 17 ستمبر‬‮ 2026 

ایک ارب ڈالر کی ’سائبر ڈکیتیوں‘ کا انکشاف

datetime 16  فروری‬‮  2015 |

کمپیوٹرز کی سکیورٹی کے بارے میں ایک نئی رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ دنیا بھر میں 100 کے قریب بینک اور مالیاتی ادارے ایسی ’سائبر ڈکیتیوں‘ کا نشانہ بنے ہیں جن کی مثال نہیں ملتی۔ کمیپوٹر سکیورٹی کی کمپنی کیسپرسکی لیب کا اندازہ ہے کہ 2013 سے شروع ہونے والے یہ سائبر حملے اب بھی جاری ہیں اور ان میں اندازاً ایک ارب ڈالر کی رقم چرائی گئی ہے۔ کمپنی کا کہا ہے کہ ان حملوں کے پیچھے روس، یوکرین اور چین سے تعلق رکھنے والے سائبر مجرموں کا ہاتھ ہے۔ کیسپرسکی کا کہنا ہے کہ اس نے اس سلسلے میں تحقیقات کے لیے انٹرپول اور یوروپول کے ساتھ مل کر کام کیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق یہ حملے روس، جرمنی، امریکہ، چین، یوکرین اور کینیڈا سمیت 30 ممالک میں کیے گئے۔ انٹرپول کے ڈیجیٹل جرائم سنٹر کے ڈائریکٹر سنجے ورمانی کا کہنا ہے کہ ’یہ حملے ایک مرتبہ پھر اس حقیقت کی عکاسی کرتے ہیں کہ مجرم کسی بھی نظام کی کمزوریوں سے فائدہ اٹھائیں گے۔‘کیسپرسکی کے مطابق ان حملوں میں نئی چیز یہ ہے کہ سائبر مجرموں نے صارفین کو ہدف بنانے کی بجائے رقم چرانے کے لیے براہِ راست بینک کو ہی نشانہ بنایا ہے۔ سکیورٹی کمپنی نے یہ وارداتیں کرنے والے گینگ کو کاربناک کا نام دیا ہے جو بینکوں کے نیٹ ورکس میں وائرس داخل کر کے وہاں ہونےوالی تمام سرگرمیاں ریکارڈ کرتا ہے اور وہ اس تمام کام پر نظر رکھتا ہے جو عملہ اپنے کمپیوٹرز پر کر رہا ہوتا ہے۔ بعض معاملات میں یہ مجرم بینک میں موجود اکاؤنٹس سے اپنے ذاتی اکاؤنٹس میں رقم منتقل کرنے یا پھر کسی کیش مشین سے مقررہ وقت پر مطلوبہ رقم نکالنے کے احکامات دینے میں بھی کامیاب رہے۔ کیسپرسکی کا کہنا ہے اس قسم کی سائبر ڈکیتیوں میں دو سے چار ماہ کا وقفہ دیا گیا اور ہر واردات میں ایک کروڑ ڈالر چرائے گئے۔ کمپنی کی رپورٹ تیار کرنے والی ٹیم کے سربراہ سرگئے گولووانو کا کہنا ہے کہ ’یہ بہت ماہرانہ سائبر ڈکیتی ہے‘۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…