جمعرات‬‮ ، 24 ستمبر‬‮ 2026 

ذیابیطس ٹائپ 2 کے مریضوں میں کینسر سے متاثر ہونیکا خطرہ بڑھنے کا انکشاف

datetime 24  ستمبر‬‮  2026 |

اسلام آباد (نیوز ڈیسک) ذیابیطس ٹائپ 2 کے مریضوں میں کینسر کے بڑھتے ہوئے خطرے سے متعلق نئی تحقیق سامنے آگئی، جس میں موٹاپے سے منسلک کینسر کی اقسام میں اضافے کی نشاندہی کی گئی ہے۔

ڈنمارک کے آراہوس یونیورسٹی ہاسپٹل میں ہونے والی تحقیق کے دوران ملک کی بالغ آبادی سے متعلق اعداد و شمار کا جائزہ لیا گیا۔ محققین نے گزشتہ کئی برسوں کے دوران ذیابیطس کے مریضوں میں کینسر کے کیسز کے رجحان کا مطالعہ کیا۔

تحقیق کے مطابق 2010 سے 2022 کے دوران ذیابیطس ٹائپ 2 میں مبتلا مردوں میں کینسر کے کیسز کی شرح میں 12 فیصد اضافہ ہوا، جبکہ خواتین میں یہ اضافہ 22 فیصد ریکارڈ کیا گیا۔

اس کے برعکس 1996 سے 2009 کے عرصے میں ذیابیطس کے مریض مردوں میں کینسر کیسز کی شرح 9 فیصد جبکہ خواتین میں 15 فیصد بڑھی تھی۔

محققین کا کہنا ہے کہ گزشتہ 25 برسوں میں ذیابیطس سے متاثرہ افراد میں کینسر کے کیسز میں اضافے کی ایک بڑی وجہ موٹاپے سے تعلق رکھنے والی کینسر کی اقسام کا بڑھنا ہے۔ تحقیق کے نتائج میں ذیابیطس کے مریضوں میں کینسر کی روک تھام اور بروقت تشخیص کی اہمیت پر بھی زور دیا گیا ہے۔

اعداد و شمار کے مطابق ڈنمارک میں 27 سال کے دوران 7 لاکھ سے زائد کینسر کیسز رپورٹ ہوئے، جن میں 75 ہزار 540 مریض ایسے تھے جو ذیابیطس کا بھی شکار تھے۔

تحقیق میں بتایا گیا کہ ذیابیطس کے شکار مردوں میں آنتوں کا کینسر سب سے زیادہ عام رہا، جبکہ خواتین میں بریسٹ کینسر کی شرح زیادہ تھی۔ پھیپھڑوں کا کینسر دونوں جنسوں میں کینسر کی دوسری عام قسم کے طور پر سامنے آیا۔

دوسری جانب ستمبر 2026 میں واشنگٹن یونیورسٹی اسکول آف میڈیسن کی ایک الگ تحقیق میں نوجوان افراد میں کینسر کے بڑھتے ہوئے خطرے کا جائزہ لیا گیا تھا۔ تحقیق میں ایسے شواہد سامنے آئے جن کے مطابق موجودہ دور کے نوجوانوں میں حیاتیاتی عمر بڑھنے کا عمل سابقہ نسلوں کے مقابلے میں تیز ہوسکتا ہے۔

ماہرین کے مطابق کسی فرد کی عمر عام طور پر تاریخ پیدائش کی بنیاد پر شمار کی جاتی ہے، جسے کرانولوجیکل ایج کہا جاتا ہے، تاہم طبی اعتبار سے بائیولوجیکل ایج بھی اہمیت رکھتی ہے۔ اس کا تعلق جسم کے خلیوں، اعضا اور مختلف جسمانی نظاموں کی حالت سے ہوتا ہے۔

تحقیق کے مطابق جینیاتی عوامل، طرز زندگی اور دیگر عناصر حیاتیاتی عمر پر اثر انداز ہوتے ہیں۔ حیاتیاتی عمر میں تیزی سے اضافہ جسم کے خلیوں، اعضا، میٹابولزم اور دیگر نظاموں میں تبدیلیوں کا باعث بن سکتا ہے۔

محققین کے مطابق حیاتیاتی عمر اور حقیقی عمر کے درمیان فرق بڑھنے کی صورت میں کینسر سمیت مختلف بیماریوں کا خطرہ بھی بڑھ سکتا ہے۔ ان کے مطابق یہ عوامل نوجوان افراد میں کینسر کے کیسز میں اضافے کی ممکنہ وجوہات کو سمجھنے میں مدد دے سکتے ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…