اسلام آباد (نیوز ڈیسک) دنیا بھر میں موٹاپا ایک بڑھتا ہوا صحت کا مسئلہ بن چکا ہے، جس کے نتیجے میں ذیابیطس، بعض اقسام کے کینسر اور دیگر دائمی بیماریوں کا خطرہ بھی بڑھ سکتا ہے۔ نوجوانوں میں بڑھتے ہوئے موٹاپے کی وجوہات جاننے کے لیے ماہرین کی جانب سے مختلف پہلوؤں پر تحقیقات جاری ہیں۔
ایک نئی تحقیق میں میٹھے اور سافٹ ڈرنکس کے باقاعدہ استعمال کو نوجوانوں میں جسمانی وزن بڑھنے اور موٹاپے کے بڑھتے ہوئے خطرے سے جوڑا گیا ہے۔
جاپان کے نیشنل انسٹیٹیوٹ آف آکیوپیشنل سیفٹی اینڈ ہیلتھ سے وابستہ محققین نے 107 ممالک اور خطوں کے تعلیمی اداروں سے تعلق رکھنے والے 4 لاکھ سے زائد طلبہ کے ڈیٹا کا جائزہ لیا۔ تحقیق کا مقصد میٹھے مشروبات کے استعمال اور نوجوانوں میں موٹاپے کے درمیان ممکنہ تعلق کا جائزہ لینا تھا۔
تحقیق کے نتائج سے معلوم ہوا کہ روزانہ ایک یا اس سے زیادہ مرتبہ میٹھے مشروبات پینے والے نوجوانوں میں موٹاپے کا امکان زیادہ پایا گیا۔ محققین کے مطابق ان نتائج کو ماضی میں ہونے والی مختلف تحقیقی رپورٹس اور کلینیکل ٹرائلز سے بھی تقویت ملتی ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ نوجوانوں میں سافٹ ڈرنکس اور دیگر میٹھے مشروبات کے استعمال کو کم کرنا موٹاپے کے بڑھتے ہوئے مسئلے پر قابو پانے کے لیے اہم ثابت ہوسکتا ہے۔ اس تحقیق کے نتائج جرنل JAMA Open Network میں شائع ہوئے۔
سابقہ تحقیق میں بھی میٹھے مشروبات اور وزن میں اضافے کا تعلق سامنے آیا
اس سے قبل مارچ 2023 میں امریکا کی ہارورڈ یونیورسٹی اور کینیڈا کی ٹورنٹو یونیورسٹی کے محققین نے بھی میٹھے مشروبات کے استعمال اور جسمانی وزن میں اضافے کے حوالے سے تحقیق کی تھی۔
اس مطالعے میں گزشتہ 10 برس کے دوران سامنے آنے والی متعدد تحقیقی رپورٹس کے اعداد و شمار کا تجزیہ کیا گیا۔ نتائج میں سوڈا اور دیگر میٹھے مشروبات کے استعمال کو وزن میں اضافے اور موٹاپے سے منسلک پایا گیا۔
تحقیق کے مطابق روزانہ معمول میں ایک اضافی سوڈا شامل کرنے سے بھی وقت کے ساتھ جسمانی وزن بڑھ سکتا ہے، جبکہ میٹھے مشروبات کی مقدار میں اضافے کے ساتھ وزن بڑھنے کا امکان بھی زیادہ ہوجاتا ہے۔
محققین کے مطابق روزانہ ایک سوڈا کے استعمال سے ایک سال کے عرصے میں جسمانی وزن میں تقریباً نصف کلو تک اضافہ ہوسکتا ہے۔ اگرچہ بظاہر یہ اضافہ معمولی دکھائی دیتا ہے، لیکن طویل عرصے تک یہ وزن نمایاں حد تک بڑھ سکتا ہے۔
ماہرین نے مشورہ دیا کہ مجموعی صحت اور وزن کو بہتر رکھنے کے لیے میٹھے مشروبات کا استعمال کم سے کم کیا جائے۔ اس تحقیق کے نتائج American Journal of Clinical Nutrition میں شائع ہوئے تھے۔



















































