اسلام آبا د(نیوز ڈیسک) لاہور: وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے صوبے میں تحصیل کی سطح تک اسٹروک سینٹرز قائم کرنے کے منصوبے کا اعلان کر دیا ہے، جس کا مقصد فالج کے مریضوں کو فوری اور معیاری علاج کی سہولت فراہم کرنا ہے۔وزیراعلیٰ کی زیر صدارت ہونے والے اجلاس میں پنجاب بھر میں جدید اسٹروک مینجمنٹ سینٹرز کے قیام کی منظوری دی گئی۔ اجلاس کے دوران فالج کی بروقت تشخیص، فوری طبی امداد اور مؤثر علاج سے متعلق مختلف تجاویز اور اقدامات کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔
اجلاس میں وزیراعلیٰ مریم نواز نے فالج کے علاج میں استعمال ہونے والے ٹی پی اے اور جدید ٹی این کے انجکشنز کی خریداری کی منظوری دیتے ہوئے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ فروری کے وسط تک نہ صرف انجکشنز کی دستیابی یقینی بنائی جائے بلکہ طبی عملے کی مکمل تربیت بھی مکمل کی جائے۔ اس موقع پر یہ فیصلہ بھی کیا گیا کہ فزیشنز کو باقاعدہ طور پر ٹی پی اے اور ٹی این کے انجکشن لگانے کی ٹریننگ دی جائے گی۔بریفنگ کے دوران بتایا گیا کہ پنجاب انسٹیٹیوٹ آف کارڈیالوجی میں عارضی بنیادوں پر اسٹروک مینجمنٹ پروگرام شروع کیا جائے گا، جبکہ صوبے بھر میں مرحلہ وار بنیادوں پر مستقل اسٹروک مینجمنٹ سینٹرز قائم کیے جائیں گے۔منصوبے کے تحت پہلے مرحلے میں 30 اضلاع، دوسرے مرحلے میں 15 اضلاع اور تیسرے مرحلے میں باقی 24 اضلاع کے سرکاری اسپتالوں میں اسٹروک سینٹرز قائم کیے جائیں گے۔
وزیراعلیٰ پنجاب نے واضح کیا کہ ہر ضلع میں اسٹروک سینٹرز کے قیام کے ساتھ ساتھ ان کی سہولت کو تحصیل کی سطح تک وسعت دی جائے گی تاکہ ایمرجنسی کی صورت میں مریضوں کو بڑے شہروں کا رخ نہ کرنا پڑے۔انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ عوام میں فالج کی ابتدائی علامات اور چار گھنٹے کے گولڈن آور کی اہمیت سے متعلق آگاہی دینا انتہائی ضروری ہے، کیونکہ بروقت علاج سے مریض کو مستقل معذوری سے بچایا جا سکتا ہے۔وزیراعلیٰ مریم نواز نے مزید ہدایت کی کہ پنجاب کے تمام اسپتالوں میں سی ٹی اسکین مشینیں ہر وقت فعال ہونی چاہئیں، جبکہ ہر ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر اسپتال میں نیورالوجسٹ اور پیڈز نیورالوجسٹ کی تعیناتی کو بھی یقینی بنایا جائے۔ان کا کہنا تھا کہ حکومتِ پنجاب کا ویژن یہ ہے کہ ہر مریض کو ایمرجنسی طبی سہولت اس کے قریب ترین اسپتال میں میسر ہو، تاکہ قیمتی جانوں کو بروقت بچایا جا سکے۔



















































