پیر‬‮ ، 21 ستمبر‬‮ 2026 

پاکستان کی 85 فیصد سے زائد آبادی میں کولیسٹرول کی مقدار بہت زیادہ ہے،ماہرین نے وجہ بھی بتا دی

datetime 9  مئی‬‮  2025 |

کراچی(این این آئی)طبی ماہرین نے کہاہے کہ پاکستان کی 85 فیصد سے زائد آبادی میں کولیسٹرول کی مقدار بہت زیادہ ہے جس کی وجہ سے ان میں ہارٹ اٹیک، فالج سمیت دیگر مسائل میں اضافہ ہو رہا ہے۔پاکستان میں پہلی بار تشکیل دیے جانے والے لیپیڈ فورم آف پاکستان کے ماہرین نے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کی 85 فیصد سے زائد آبادی میں کولیسٹرول کی مقدار بہت زیادہ ہے جس کی وجہ سے جسم کو خون فراہم کرنے والی شریانیں سکڑ رہی ہیں۔ شریانوں کے تنگ ہونے کی وجہ سے ہارٹ اٹیک، فالج سمیت دیگر مسائل میں اضافہ ہورہا ہے۔دوسری جانب اسکول جانے والے بچوں اور نوجوان نسل میں فاسٹ فوڈ کے زیادہ استعمال کی وجہ سے کم عمری میں ہی ان بچوں میں شریانوں کی تنگی کی شکایت تیزی سے بڑھ رہی ہے۔ مرغن اور غیرمعیاری کھانوں کے استعمال سے پاکستان کی اکثریت آبادی میں گڈ کولیسٹرول کی مقدار کم اور خراب کولیسٹرول کی مقدار میں غیر معمولی اضافہ ہورہا ہے۔

چکنائی والی اشیا کے استعمال سے جسم میں چربی کی وجہ سے مرض میں ہولناک اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔فورم کے ماہرین پروفیسر عبدالرشید، پروفیسر نواز لشاری، ڈپٹی ڈائریکٹر ہیلتھ کراچی ڈاکٹر پیرغلام نبی شاہ چیلانی، پروفیسر جمیل احمد، پروفیسر کمال یوسف نے بتایا کہ چکنائی اور فاسٹ فوڈ استعمال کرنے سے جسم میں خراب کولیسٹرول کی شرح میں غیر معمولی اضافہ ہورہا ہے جس کی وجہ سے دل کو فراہم کرنے والی خون کی شریانے میں تنگی پیدا ہورہی ہے اور جسم میں گڈ کولیسٹرول کی مقدار بہت کم ہورہی ہے۔ ایسی صورت میں ہارٹ اٹیک اور فالج کی امراض میں اضافہ ہورہا ہے۔ جسم میں گڈ کولیسٹرول کی مقدار 50 فیصد سے زائد ہونی چاہیئے۔

ان ماہرین نے بتایا کہ صحت مندانہ غذا کے استعمال سے شریانوں میں خون کی روانی متاثر نہیں ہوتی۔ زندگی کو بہتر بنانے کے لیے متوازن غذا استعمال کریں، خون میں چربی کی مقدار زیادہ ہونے سے دل کے متعد امراض جنم لے رہے ہیں۔ طرززندگی کو بہتر بنانے کے لیے واک لازمی ہے۔ان ماہرین نے یہ بھی بتایا کہ والدین اپنے بچوں کو فاسٹ فوڈ اور چکنائی والی اشیا سے دور رکھیں۔ یومیہ واک کرنے سے ذہنی تنا میں کمی واقع ہوتی ہے۔ یہ سائنس نے ثابت کردیا ہے کہ واک کرنے سے خون کی روانی اور جسم میں موجود چربی سمیت زہریلی مادے ضائع ہوتے رہتے ہیں۔واضح رہے اس فورم کا مقصد عوام میں صحت مندانہ دل کے حوالے سے شعور اجاگر کرنے ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…