جمعہ‬‮ ، 21 اگست‬‮ 2026 

پاکستان کی 85 فیصد سے زائد آبادی میں کولیسٹرول کی مقدار بہت زیادہ ہے،ماہرین نے وجہ بھی بتا دی

datetime 9  مئی‬‮  2025 |

کراچی(این این آئی)طبی ماہرین نے کہاہے کہ پاکستان کی 85 فیصد سے زائد آبادی میں کولیسٹرول کی مقدار بہت زیادہ ہے جس کی وجہ سے ان میں ہارٹ اٹیک، فالج سمیت دیگر مسائل میں اضافہ ہو رہا ہے۔پاکستان میں پہلی بار تشکیل دیے جانے والے لیپیڈ فورم آف پاکستان کے ماہرین نے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کی 85 فیصد سے زائد آبادی میں کولیسٹرول کی مقدار بہت زیادہ ہے جس کی وجہ سے جسم کو خون فراہم کرنے والی شریانیں سکڑ رہی ہیں۔ شریانوں کے تنگ ہونے کی وجہ سے ہارٹ اٹیک، فالج سمیت دیگر مسائل میں اضافہ ہورہا ہے۔دوسری جانب اسکول جانے والے بچوں اور نوجوان نسل میں فاسٹ فوڈ کے زیادہ استعمال کی وجہ سے کم عمری میں ہی ان بچوں میں شریانوں کی تنگی کی شکایت تیزی سے بڑھ رہی ہے۔ مرغن اور غیرمعیاری کھانوں کے استعمال سے پاکستان کی اکثریت آبادی میں گڈ کولیسٹرول کی مقدار کم اور خراب کولیسٹرول کی مقدار میں غیر معمولی اضافہ ہورہا ہے۔

چکنائی والی اشیا کے استعمال سے جسم میں چربی کی وجہ سے مرض میں ہولناک اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔فورم کے ماہرین پروفیسر عبدالرشید، پروفیسر نواز لشاری، ڈپٹی ڈائریکٹر ہیلتھ کراچی ڈاکٹر پیرغلام نبی شاہ چیلانی، پروفیسر جمیل احمد، پروفیسر کمال یوسف نے بتایا کہ چکنائی اور فاسٹ فوڈ استعمال کرنے سے جسم میں خراب کولیسٹرول کی شرح میں غیر معمولی اضافہ ہورہا ہے جس کی وجہ سے دل کو فراہم کرنے والی خون کی شریانے میں تنگی پیدا ہورہی ہے اور جسم میں گڈ کولیسٹرول کی مقدار بہت کم ہورہی ہے۔ ایسی صورت میں ہارٹ اٹیک اور فالج کی امراض میں اضافہ ہورہا ہے۔ جسم میں گڈ کولیسٹرول کی مقدار 50 فیصد سے زائد ہونی چاہیئے۔

ان ماہرین نے بتایا کہ صحت مندانہ غذا کے استعمال سے شریانوں میں خون کی روانی متاثر نہیں ہوتی۔ زندگی کو بہتر بنانے کے لیے متوازن غذا استعمال کریں، خون میں چربی کی مقدار زیادہ ہونے سے دل کے متعد امراض جنم لے رہے ہیں۔ طرززندگی کو بہتر بنانے کے لیے واک لازمی ہے۔ان ماہرین نے یہ بھی بتایا کہ والدین اپنے بچوں کو فاسٹ فوڈ اور چکنائی والی اشیا سے دور رکھیں۔ یومیہ واک کرنے سے ذہنی تنا میں کمی واقع ہوتی ہے۔ یہ سائنس نے ثابت کردیا ہے کہ واک کرنے سے خون کی روانی اور جسم میں موجود چربی سمیت زہریلی مادے ضائع ہوتے رہتے ہیں۔واضح رہے اس فورم کا مقصد عوام میں صحت مندانہ دل کے حوالے سے شعور اجاگر کرنے ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)


مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…