اتوار‬‮ ، 18 جنوری‬‮ 2026 

یومیہ تین سے چار پھل کھانا ڈپریشن کم کرنے میں مددگار ثابت

datetime 17  اگست‬‮  2024 |

اسلام آباد (این این آئی)طویل تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ یومیہ تین سے چار پھل کھانے والے افراد میں زائد العمری میں بھی ڈپریشن کی سطح کم ہوتی ہے۔طبی جریدے میں شائع تحقیق کے مطابق سنگاپور میں 20 سال تک رضاکاروں پر کی جانے والی تحقیق سے معلوم ہوا کہ خصوصی طور پر ادھیڑ عمری یعنی 30 سال کی عمر کے بعد پھل کھانے سے ڈپریشن سے بچا جا سکتا ہے۔تحقیق کے دوران ماہرین نے 1993 سے 1994 تک تقریبا 14 ہزار افراد میں ڈپریشن کی سطح سمیت ان کی جانب سے یومیہ پھلوں کے استعمال کو جانچا گیا۔

علاوہ ازیں ماہرین نے تمام افراد کے مختلف ٹیسٹس بھی کیے، ان رضاکاروں میں سے زیادہ تر کی عمریں 50 سال کے قریب تھیں۔ماہرین نے بعد ازاں 2014 میں تمام رضاکاروں سے فالو اپ لیا اور ان میں ڈپریشن کی سطح دیکھی، ان کے متعدد دوبارہ ٹیسٹس بھی کیے گئے اور ان کی ذہنی صحت کا موازنہ 20 سال قبل والی صحت سے کیا گیا۔ماہرین نے پایا کہ جب افراد نے یومیہ تین پھل کھائے تھے، ان میں ڈپریشن کی سطح انتہائی کم تھی ، یومیہ ایک پھل کھانے والے افراد میں ڈپریشن کی سطح نمایاں تھیں۔ماہرین نے نوٹ کیا کہ یومیہ تین سے چار پھل کھانے سے ڈپریشن نہ ہونے کے امکانات 34 فیصد تک کم ہوجاتے ہیں جب کہ زیادہ پھل کھانے سے امکانات مزید کم ہوسکتے ہیں،اسی طرح اگر یومیہ ایک پھل کھایا جائے تو بھی ڈپریشن ہونے کے امکانات نمایاں حد تک کم ہوجاتے ہیں۔

ماہرین نے نوٹ کیا کہ خصوصی طور پر کیلے، تربوز، مالٹے، کینو، پپیتا اور اسی طرح کے دیگر رنگین پھل کھانے سے ڈپریشن سے نمایاں حد تک تحفظ ہو سکتا ہے۔ماہرین کے مطابق پھلوں میں عام طور پر اینٹی آکسیڈنٹ سمیت اینٹی انفلیمیٹری اجزا ہوتے ہیں جو کہ جسم سے تیزابیت نکالنے کے ساتھ ساتھ جسم کو توانا رکھنے میں مددگار ثابت ہوتے ہیں اور ان سے ذہنی صحت بھی نمایاں حد تک بہتر ہوتی ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



چھوٹی چھوٹی نیکیاں اور بڑے معجزے


اسلام آباد کا بائیس سالہ طالب علم طلحہ ظہور…

ونڈر بوائے

یہ بنیادی طور پر تین پاشائوں کی کہانی ہے‘ طلعت…

سہیل آفریدی کا آخری جلسہ

وہ جنرل کے سامنے بیٹھا‘ تھوڑی دیر دائیں بائیں…

ذورین نظامانی غلط نہیں کہہ رہا

والد صاحب نے مجھے پکڑ لیا‘ ان کے ہاتھ میں جوتا…

پرسی پولس

شیراز ریجن کا اصل کمال پرسی پولس (Persepolis) ہے‘ یہ…

سائرس یا ذوالقرنین

میرے سامنے پتھروں کی مستطیل عمارت تھی‘ فرش کے…

ایک دن ذوالقرنین کے مقبرے پر

میدان کی پچھلی جانب پہاڑ تھے‘ ان پر تازہ برف…

کام یابی کے دو فارمولے

کمرہ صحافیوں سے بھرا ہوا تھا‘ دنیا جہاں کا میڈیا…

وزیراعظم بھینسیں بھی رکھ لیں

جمشید رتن ٹاٹا بھارت کے سب سے بڑے کاروباری گروپ…

جہانگیری کی جعلی ڈگری

میرے پاس چند دن قبل ایک نوجوان آیا‘ وہ الیکٹریکل…

تاحیات

قیدی کی حالت خراب تھی‘ کپڑے گندے‘ بدبودار اور…