پیر‬‮ ، 21 ستمبر‬‮ 2026 

خیبرپختونخوا میں نجی ہسپتالوں نے صحت کارڈ کے ذریعے اربوں روپے کمالیے

datetime 7  جون‬‮  2021 |

پشاور(این این آئی) گزشتہ 5 برسوں میں صحت سہولت پروگرام کے تحت مریضوں کے مفت علاج کے ذریعے ہونے والی آمدن سے صحت کے سرکاری اداروں نے 2 ارب روپے اور نجی ہسپتالوں نے 8 ارب روپے کمائے۔میڈیا رپورٹ کے مطابق حکومت اب تک صوبے میں 4 لاکھ 23 ہزار 525 مریضوں کے مفت علاج پر 10 ارب

50 کروڑ روپے کی رقم خرچ کرچکی ہے،اس رقم میں سے نجی ہسپتالوں کو 78 فیصد ملا جبکہ سرکاری ملکیت میں چلنے والی صحت کی سہولیات 22 فیصد ہی حاصل کرسکے۔ذرائع کے مطابق سرکاری ہسپتالوں میں صحت سہولت پروگرام کی آمدن میں عملے کا حصہ شامل نہ ہونا کم آمدنی کی بڑی وجہ ہے۔انہوں نے بتایا کہ محکمہ صحت کو سرکاری ہسپتالوں کی ناقص کارکردگی پر تشویش ہے اور اس حوالے سے اسٹیئرنگ کمیٹی کے آئندہ اجلاس میں تبادلہ خیال کیا جائیگا،اس پروگرام کے تحت 173 ہسپتالوں کو پینل میں شامل کیا گیا، جس میں 46 سرکاری ہسپتال اور 127 نجی ہسپتال شامل ہیں، ہسپتالوں کا انتخاب ماہرین کی اسکروٹنی کے بعد کیا گیا۔2019 میں صوبائی کابینہ نے سرکاری ہسپتالوں کے لیے صحت سہولت کارڈ کے ذریعے اکٹھے ہونے والے فنڈز کی تقسیم کے لیے ‘فنڈز ریٹینشن اینڈ یوٹلائزیشن فارمولے’ کی منظوری دی تھی۔فارمولے کا مقصد سرکاری ہسپتالوں کے عملے کو حصہ دینا تھا تا کہ وہ نجی ہسپتالوں کی طرح مریضوں کی دیکھ بھال کرسکیں اور پروگرام سے ان کی آمدن میں اضافہ ہو۔مذکورہ فارمولے کے تحت 25 فیصد آمدن ہسپتال کی دیکھ بھال اور خدمات کی بہتری، 20 فیصد اخراجات اور 30 فیصد انشورنس والے مریضوں کی دیکھ بھال اور علاج کرنے والے ڈاکٹروں، سرجنز اور

دیگر ماہرین صحت کے لیے رکھی گئی تھی۔اسی آمدن میں سے 15 فیصد رقم طبی عملے اور نرسز جبکہ 10 فیصد انتظامی اخراجات پر خرچ ہونی تھی۔اس فارمولے کی منظوری سے قبل پوری آمدن حکومتی اکاؤنٹ میں جاتی تھی لیکن صوبائی کابینہ کی منظوری کے بعد یہ رقم ہسپتالوں کی سہولیات اور خدمات بہتر بنانے میں خرچ ہونی تھی۔

ذرائع کے مطابق محکمہ صحت نے ہسپتالوں کو میڈیکل سپرنٹنڈنٹس کی سربراہی میں کمیٹی تشکیل دینے کی بھی ہدایت کی تھی تا کہ فارمولے پر عملدرآمد یقینی بنایا جاسکے لیکن ہسپتال اس سے انکار کررہے ہیں۔صحت سہولت پروگرام سال 2015 میں 4 اضلاع میں جرمن بینک کے ایف ڈبلیو کے اشتراک سے متعارف کروایا گیا تھا جو ابتدا

میں صوبے کی 3 فیصد آبادی کے لیے تھا۔بعدازاں سال 2016 میں اسے 51 فیصد جبکہ 2017 میں 69 فیصد آبادی کے لیے توسیع دے دی گئی تھی اور 2020 نومبر میں پورے صوبے کی آبادی کے لیے بڑھا دیا گیا تھا۔اب اس پروگرام میں 72 لاکھ خاندان شامل ہیں، جو ملک کے 500 ہسپتالوں میں مفت علاج کی سہولت حاصل

کرسکتے ہیں۔اسٹیٹ لائف کارپوریشن پاکستان پینل میں شامل ہسپتالوں میں اس صحت پروگرام پر عمل کروارہی ہے۔رپورٹ کے مطابق صحت سہولت پروگرام ہر خاندان کو سالانہ 10 لاکھ روپے تک کی صحت کی سہولت فراہم کرتا ہے اور یہ رقم استعمال ہونے کی صورت میں انہیں دیا گیا کارڈ ریچارج کیا جاتا ہے۔یہی اسکیم پنجاب،

بلوچستان،سندھ کے کچھ اضلاع، آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان میں دہرائی گئی۔حکام کا کہنا تھا کہ حکومت کو سرکاری ہسپتالوں کی نقص کارکردگی پر تشویش ہے جہاں ملازمین تنخواہیں حاصل کررہے ہیں لیکن صحت سہولت پروگرام کے مریضوں کا علاج کرنے کے قابل نہیں۔نجی ہسپتالوں میں مریضوں کو فوری داخل کرلیا جاتا ہے لیکن سرکاری ہسپتالوں میں انہیں طویل عرصے تک انتظار کروایا جاتا ہے اور حصہ نہ ملنے کی وجہ سے عملہ کوئی دلچسپی نہیں لیتا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…