جمعہ‬‮ ، 14 اگست‬‮ 2026 

صوبہ خیبرپختونخوا میں دل کا صرف ایک ماہر ڈاکٹر ہونے کا انکشاف

datetime 26  مئی‬‮  2021 |

اسلام آباد (این این آئی)سپریم کورٹ آف پاکستان نے غیر معیاری اسٹنٹ سے متعلق کیس میں سندھ بلوچستان صوبائی ہیلتھ کیئر کمیشن سے رپورٹ طلب کرلی۔ منگل کو چیف جسٹس گلزار احمد کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے کی۔دوران سماعت کے پی کے میں صرف ایک سرٹیفائیڈ کارڈیک ڈاکٹر نے انکشاف کیا،عدالت نے سی او

صوبائی ہیلتھ کئیر کمیشن پر اظہار برہمی کیا۔ چیف جسٹس نے کہاکہ پورے کے پی صوبے میں صرف ایک سرٹیفائیڈ کارڈیک ڈاکٹر کا ہونا حیران کن ہے، کے پی کے گذشتہ ایک سال میں امراض قلب کے 4615 پروسیجر کیسے ہو گئے۔ چیف جسٹس نے کہاکہ سی او ہیلتھ کیئر کو تو گھر چلے جانا چاہیے،سی او کے پی صوبائی ہیلتھ کیئر کمیشن کیا یہاں تفریح کرنے آئے ہیں۔ سی او پنجاب ہیلتھ کیئر کمیشن نے کہاکہ پنجاب میں امراض قلب کے 40 سرٹیفائیڈ ڈاکٹر ہے۔ چیف جسٹس نے کہاکہ 40 سرٹیفائیڈ ڈاکٹر تو صرف لاہور میں ہونے چاہئیں۔ جسٹس مظاہر نقوی نے کہاکہ امراض قلب کا معاملہ پروفیشنل ڈاکٹرز کے ہاتھوں سے نکل گیا ہے،کاروباری لوگوں نے امراض قلب کو پیسہ بنانے کا ذریعہ بنا لیا ہے۔ ڈاکٹر اظہر کیانی نے کہاکہ ڈریپ نے این آئی سی بی کمیٹی کے منظوری شدہ اسٹنٹ کی منظوری نہیں دی،این آئی سی بی کے منظور شدہ اسٹنٹ کی بجائے غیر معیاری اسٹنٹ مریضوں کو ڈالے جا رہے ہیں۔ عالت نے کہاکہ صوبائی ہیلتھ کیئر کمیشنز امراض قلب کے ڈاکٹرز کی رجسٹرڈ ہو،غیر رجسٹرڈ اور غیر کوالیفائیڈ ڈاکٹرز کو سرجری کی اجازت نہ دی جائے،مریضوں کی زندگیوں کو غیر کوالیفائیڈ سے بچایا جائے۔ عدالت نے کہاکہ اس ضمن میں کسی غفلت کے ذمہ داری متعلقہ ہیلتھ کیئر کمیشن ہوگا۔عدالت عظمیٰ نے اسٹنٹ سے متعلق سندھ بلوچستان صوبائی ہیلتھ کیئر کمیشن سے رپورٹ طلب کرتے ہوئے سماعت غیر معینہ مدت تک ملتوی کر دی۔



کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)


1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…