اتوار‬‮ ، 20 ستمبر‬‮ 2026 

آدھے سر کا درد اور مائیگرین کا علاج دوائی سے نہیں اس قہوے سے کریں 

datetime 11  مئی‬‮  2021 |

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک )آدھے سر کے درد کا بہتر علاج ہے گیس ختم کرو یہ گیس سر کو چڑھتی ہے حکیم لقمان فرمایا کرتے تھے انسان کے جسم میں معدہ سردار ہے جس کا سردار کمزور ہو گیا اس کے باقی جتنے اعضاء ہیں وہ ساری رعایا ہیں جب سردار کمزور ہو گا تو اس کی رعایا کمزور ہو جائے گی اگر اپنی رعایا کو مضبوط کرنا چاہتے ہو تو سردار کو قوی کرو صرف معدہ ٹھیک کرو

اور معدہ ٹھیک ہوتا ہے کھانا کھانے سے آدھا گھنٹہ پہلے پانی پیو ڈیڑھ گھنٹہ بعد پانی پیو اور معدے کے بوجھ کو کم کرو معدے کا بوجھ کم کرنا کیا ہے ایک لقمے کو بتیس بار چباؤ اور اگر معدہ خراب ہوگیا ہے تو چار چیزیں ادرک لہسن پودینہ انار دانہ مائیگرین کا بھی ہڈی کا بھی ہیڈیک کا بھی پیت کے مسائل کا بھی جوڑوں کے درد کا بھی کمر کے درد کا بھی شوگر کابھی قبض کا بھی کر کے دیکھو میری باتیں سچ ہیں یا جھوٹ پتا کیسے چلے گا تجربہ کر کے دیکھ لیجئے تجربہ کرنے کے بعد انشاء اللہ آپ حیران رہ جائیں گے ۔مائیگرین کو اردو میں درد شقیقہ بھی کہتے ہیںلیکن عام لوگ اس کو بھی سردرد ہی کہتے ہیں۔عام طو ر پر سر کے نصف حصہ میں درد ہوتا ہے۔اور کبھی یہ درد سر کے دائیں جانب اور کھبی بائیں جانب ہوتا ہے۔درد شقیقہ دائمی درد ہے۔اس درد سے مریض بے چین رہتا ہے۔اور کوئی بھی کام کرنے میں دقت محسوس کرتا ہے۔یہ مردوں اور عورتوں دونوں میں ہوتا ہے۔یہ چند منٹ سے لے کر کئی دنوں تک رہ سکتا ہے۔درد شقیقہ کا براہ راست تعلق دماغ سے ہوتا ہے۔اور اسکی زیادہ تر وجہ سخت محنت ہے۔کمزوری بھی درد شقیقہ کی ایک وجہ ہوسکتی ہے۔یہ وراثتی طور پر بھی منتقل ہوتا ہے۔جدید دور کے تحائف میں سے مائیگرین یا آدھے سر کا درد ایک تکلیف دہ بیماری ہے ،ہر تیسرا فرد کسی نہ کسی انداز میں مائیگرین کی علامات کی شکایت لیے پھرتا ہے جس میں حساس قسم کی اعصابی علامات بھی نمو دار ہوتی ہیں مثلاًروشنیوں کے جھماکے،سیاہ دھبے بازؤوں اور ٹانگوں میں

سوئیاں چبھنے والی بے چینی کا احساس، متلی، قے کے علاوہ روشنی اور آواز کے معاملے میں بھی حد سے زیادہ حساس ہونا شامل ہے۔درد کے یہ احساسات چند گھنٹوں سے لے کرکم سے کم تین دنوں تک محیط ہو سکتے ہیں۔مائیگرین والا درد سر خون کی شریانوں کے بڑھنے اوراعصاب سے کیمیاوی مادوں کے ان شریانوں میں ملنے سے پیدا ہوتا ہے اس کے دورے کے دوران ہوتا یہ ہے کہ کنپٹی کے

مقام پر جلد کے نیچے رگ پھول جاتی ہے۔اس کے نتیجے میں کچھ کیمیاوی مادے پیدا ہوکرسوجن ،درد کے ذریعے رگ کو اور پُھلا دیتے ہیں۔جس سے دفاع میں اعصابی نظام متلی ،پیٹ کی خرابی اور قے کا احساس پیدا کرتا ہے اس کے علاوہ اس کی وجہ سے خوراک کے ہضم ہونے کا عمل بھی سست پڑ جاتا ہے۔ دوران خون کے سست پڑنے سے ہاتھ اور پاؤں ٹھنڈے پڑ سکتے ہیں اور روشنی اور آواز کی حساسیت میں اضافہ ہوسکتا ہے۔ جسم کو ایک طرف کمزوری کا احساس بھی ہوسکتا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…