بھارت میں پہلی مرتبہ کورونا سے 4 ہزار سے زائد اموات ریکارڈ،متعدد ریاستوں میں سخت لاک ڈاؤن نافذ

  اتوار‬‮ 9 مئی‬‮‬‮ 2021  |  1:01

نئی دہلی (آن لائن )بھارت میں کورونا وائرس سے یومیہ ریکارڈ اموات کے بعد متعدد ریاستوں میں سخت لاک ڈاؤن لگادیا گیا۔ غیر ملکی خبررساں ادارے کے مطابق بھارت میں گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران کورونا سے ایک دن میں 4 ہزار 187 ہلاک ہوگئے جس کے بعد وہاں اموات کی مجموعی تعداد 2 لاکھ 40 ہزار سے تجاوز کرگئی۔وزارت صحت کے حکام کے مطابق اسی دورانیے میں 4 لاکھ ایک ہزار 78 نئے کیسز کی اطلاعات ہیں۔بھارت میں کورونا وائرس کی دوسری لہر سے متاثرہ افراد کی تعداد میں غیرمعمولی اضافے کے بعد مجموعی تعداد 2 کروڑ 19 لاکھ


سے تجاوزکرگئی ہے۔طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ کووڈ 19 کے کیسز اور اموات کی اصل تعداد سرکاری اعداد و شمار سے کہیں زیادہ ہونے کا امکان ہے۔بی ایم ڈبلیو، ڈیملر، فورڈ، نسان اور رینالٹ سمیت آٹوموبائل تیار کرنے کے لیے مشہور تامل ناڈو نے پیر سے جزوی سے مکمل لاک ڈاؤن میں منتقل ہونے کا فیصلہ کیا ہے۔ریاست میں عوامی نقل و حمل کو روکنے اور سرکاری طور پر چلائے جانے والے شراب خانوں کو بند کردیا جائے گا۔ علاوہ ازیں ریاست کرناٹک نے مجموعی طور پر شٹ ڈاؤن میں توسیع کردی۔ واضح رہے کہ ریاست کے دارالحکومت بنگلورو ایک بہت بڑا آئی ٹی مرکز ہے جہاں گوگل، ایمیزون اور سسکو سمیت متعدد کمپنیوں کے بڑے دفاتر ہیں۔ بھارت نے تاحال ملکی سطح پر لاک ڈاؤن نہیں لگایا جیسا کہ اس نے گزشتہ سال پہلی لہر کے دوران لگایا تھا لیکن بھارت کی نصف ریاستوں نے مکمل طور پر لاک ڈاؤن لگادیا ہے جبکہ متعدد جزوی طور پر بند ہیں۔علاوہ ازیں متعدد ریاستوں نے ہندو کے مذہبی تہوار ہولی سے پہلے بڑے اجتماعات پر پابندی عائد کرنے کا اعلان کیا ہے۔تامل ناڈو کے وزیر اعلی ایم کے اسٹالن نے بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کو لکھے گئے ایک خط میں کہا کہ اگلے دو ہفتوں میں تامل ناڈو کی میڈیکل آکسیجن کی طلب دوگنی ہوسکتی ہے۔انہوں نے کہا کہ تامل ناڈو میں آکسیجن کی دستیابی نہایت ہی نازک ہے۔ان کا کہنا تھا کہ چنائی کے مضافات میں واقع ایک ہسپتال میں آکسیجن کی کمی کی وجہ سے 13 مریضوں کی موت ہوگئی۔ علاوہ ازیں متعدد ہسپتالوں اور ڈاکٹروں نے فوری نوٹسز جاری کرتے ہوئے کیا کہ وہ مریضوں کے رش سے نمٹنے کے قابل نہیں ہیں۔


موضوعات:

زیرو پوائنٹ

روکا روکی کا کھیل

میں آج سے چھ سال پہلے بائی روڈ اسلام آباد سے ملتان گیا تھا‘ وہ سفر مشکل اور ناقابل برداشت تھا‘ رات لاہور رکنا پڑا‘ اگلی صبح نکلے تو ملتان پہنچنے میں سات گھنٹے لگ گئے‘ سڑک خراب تھی اور اس کی مرمت جاری تھی لہٰذا گرمی‘ پسینہ اور خواری بھگتنا پڑی‘ ہفتے کے دن چھ سال بعد ایک بار ....مزید پڑھئے‎

میں آج سے چھ سال پہلے بائی روڈ اسلام آباد سے ملتان گیا تھا‘ وہ سفر مشکل اور ناقابل برداشت تھا‘ رات لاہور رکنا پڑا‘ اگلی صبح نکلے تو ملتان پہنچنے میں سات گھنٹے لگ گئے‘ سڑک خراب تھی اور اس کی مرمت جاری تھی لہٰذا گرمی‘ پسینہ اور خواری بھگتنا پڑی‘ ہفتے کے دن چھ سال بعد ایک بار ....مزید پڑھئے‎