کرونا ء کا شکار ہونے سے پہلے اسے روکنے والی انقلابی دوا کی تیاری میں پیشرفت، خوشخبری سنا دی گئی

  اتوار‬‮ 27 دسمبر‬‮ 2020  |  0:12

لندن (این این آئی)برطانیہ میں سائنسدان ایسی نئی دوا کی آزمائش کررہے ہیں جو کورونا وائرس سے متاثر فرد میں اس سے ہونے والی بیماری کووڈ 19 کو بننے سے روک سکے گی اور ماہرین کو توقع ہے کہ اس سے متعدد زندگیاں بچائی جاسکیں گی۔میڈیارپورٹس کے مطابق یہ اینٹی باڈی تھراپی اس وبائی مرض کے خلاف فوری مدافعت فراہم کرے گی، جبکہ اسے ہسپتالوں میں ایمرجنسیعلاج کے طور پر بھی استعمال کیا جاسکے گا۔ایسے گھروں میں جہاں کوئی فرد کووڈ 19 کا شکار ہو، ان کے ساتھ رہنے والوں کو یہ دوا انجیکٹ کرنے سے اس بات کو یقینی


بنایا جاسکے گا کہ وہ بیمار نہ ہو۔محققین کے مطابق یہ ایسی جگہوں میں بھی استعمال کرائی جاسکے گی جہاں وائرس کے پھیلنے کا خطرہ زیادہ ہو۔لندن کالج یونیورسٹی ہاسپٹل کی وائرلوجسٹ ڈاکٹر کیتھیرن ہولیان جو اس دوا پر تحقیق کرنے والی ٹیم کی قیادت کررہی ہیں، نے بتایا کہ اگر ہم ثابت کرنے میں کامیاب ہوئے کہ یہ علاج کارآمد ہے اور وائرس کا سامان کرنے والے افراد میں کووڈ 19 کی روک تھام ہوسکتی ہے، تو یہ اس جان لیوا وائرس کے خلاف جنگ میں ایک بہتر ہتھیار ثابت ہوگا۔اس دوا کو لندن کالج یونیورسٹی ہاسپٹل اورسوئیڈن کی دوا ساز کمپنی آسترازینیکا مل کر تیار کررہے ہیں، جو اس سے قبل آکسفورڈ یونیورسٹی ی کووڈ 19 ویکسین کے لیے بھی کام کرچکی ہے۔تحقیقی ٹیم کو توقع ہے کہ اینٹی باڈیز کے امتزاج پر مبنی دوا سے لوگوں کو کووڈ 19 سے 6 سے 12 ماہ ت تحفظ مل سکے گا۔ٹرائل میں شامل افراد و اس دوا کے 2 ڈوز استعمال کرائے جارہے ہیں اور اگر اس کو منظوری ملی، تو اس کا استعمال ایسے افراد کو کرایا جائے گا جو گزشتہ 8 دنوں میں کووڈ 19 سے متاثر کسی فرد سے ملے ہوں۔محققین کو توقع ہے کہ تحقیق میں شواہد پر نظرثانی کے بعد ریگولیٹری کی منظوری حاصل کی جاسکے گی اور مارچ یا اپریل تک یہ عام دستیابہوگی۔اس کی آزمائش دنیا کے سو مقامات پر کی جائے گی اور سب سے پہلے لندن کالج یونیورسٹ کے ہسپتال میں ٹرائل کے لیے لوگوں کی خدمات حاصل کی گئی ہیں، جن کو یہ دوا یا پلیسبو کا استعمال کرایا جارہا ہے۔ڈاکٹر کیتھرین نے بتایا کہ اب تک 10 افراد کو یہ دوا انجیکٹ کی گئی ہے، جو گھر، کسی ہسپتال یا تعلیمی ادارے میں وائرس کا سامنا کرچکے ہیں۔اب ان افراد کا جائزہلیا جارہا ہے کہ ان میں سے کتنے میں کووڈ 19 کی تشخیص ہوتی ہے۔دوا سے فوری تحفظ ملنے پر یہ وائرس ے پھیلا میں کمی لاسکے گی جس دوران ویکسینز کی فراہمی ممکن ہوسکے گی۔محققین کا کہنا تھا کہ ا دوا کا فائدہ یہ ہے کہ اس سے لوگوں کو فوری اینٹی باڈیز فراہم کی جاسکیں گی، اس کو استعمال کرنے والے افراد ویکسین بھی استعمال کرسکیں گے، مگر ویکسین سے مکملتحفظ فراہم ہونے میں کئی ہفتے لگ جاتے ہیں۔ایسٹ اینگیلا یونیورسٹی کے میڈیسین پروفیسر پال ہنٹر نے کہا کہ یہ نیا طریقہ علاج کووڈ سے ہلاکتوں کی شرح میں ڈرامائی کمی لاسکے گا۔انہوں نے کہا کہ اس سے کووڈ کی سنگین شدت کے خطرے سے دوچار ہونے والے معمر افراد کی مدد کرکے متعدد زندگیاں بچاسکیں گے۔اس دوا میں آسترا زینیکا کے تیار کردہ اینٹی باڈی امتزاج اے زی ڈی7442 کو بھی شامل کیا گیا ہے، جسم میں بیماری کے خلاف اینٹی باڈیز ننانے کی بجائے اے زی ڈی 7442 میں مونوکلونل اینٹی باڈیز کو استعمال کیا گیا ہے۔آسترا زینیکا کے امریکا میں رجسٹر ہونے والے ایک ٹرائل کے دستاویزات میں بتایا گیا کہ اے زی ڈی 7442 کووڈ کے ماحول میں جانے والے افراد میں بیماری کی روک تھام میں موثر ہے۔یہ کورونا وائرس کے اسپائیک پروٹینکو ہدف بناتا ہے، جس سے وائرس انسانی خلیات میں داخل نہیں ہوپاتا اور لوگ بیماری کے شکار نہیں ہوتے۔ایک الگ ٹرائل میں لندن کالج یونیورسٹی ہاسپٹلز کی جانب سے یہ آزمائش بھی کی جارہی ہے کہ اس سے ان لوگوں کو بھی تحفظ مل سکتا ہے جن کا مدافعتی نظام کمزور ہو، جیسے کینسر کے مریض جو کیموتھراپی کے عمل سے گزر رہے ہوں۔یہ دونوں ٹرائلزاس وقت تیسرے اور آخری مرحلے میں داخل ہوچکے ہیں۔برٹش میڈیکل ایسوسی ایشن کی پبلک ہیلتھ کمیٹی کے شریک چیئرمین ڈاکٹر رچرڈ جرویس نے بتایا کہ ویسے تو اکثریتی آبادی کیلئے کووڈ 19 سے بہترین تحفظ ویکسین سے ممکن ہوگا، مگر یہ ٹرائلز کامیاب ہوتے ہیں تو یہ ایک نیا طریقہ علاج ہوگا جو فوری طور پر متعارف کرایا جاسکے گا۔


موضوعات:

زیرو پوائنٹ

روکا روکی کا کھیل

میں آج سے چھ سال پہلے بائی روڈ اسلام آباد سے ملتان گیا تھا‘ وہ سفر مشکل اور ناقابل برداشت تھا‘ رات لاہور رکنا پڑا‘ اگلی صبح نکلے تو ملتان پہنچنے میں سات گھنٹے لگ گئے‘ سڑک خراب تھی اور اس کی مرمت جاری تھی لہٰذا گرمی‘ پسینہ اور خواری بھگتنا پڑی‘ ہفتے کے دن چھ سال بعد ایک بار ....مزید پڑھئے‎

میں آج سے چھ سال پہلے بائی روڈ اسلام آباد سے ملتان گیا تھا‘ وہ سفر مشکل اور ناقابل برداشت تھا‘ رات لاہور رکنا پڑا‘ اگلی صبح نکلے تو ملتان پہنچنے میں سات گھنٹے لگ گئے‘ سڑک خراب تھی اور اس کی مرمت جاری تھی لہٰذا گرمی‘ پسینہ اور خواری بھگتنا پڑی‘ ہفتے کے دن چھ سال بعد ایک بار ....مزید پڑھئے‎