جمعرات‬‮ ، 12 مارچ‬‮ 2026 

کورونا کے شکار بچوں میں وائرس میں برق رفتار تبدیلیاں آنے کا انکشاف

datetime 10  ‬‮نومبر‬‮  2020 |

بیجنگ(این این آئی)نوول کورونا وائرس کچھ بچوں کے معدے میں برق رفتاری سے خود کو بدلتا ہے یا یوں کہہ لیں میوٹیشن کے عمل سے گزرتا ہے۔میڈیارپورٹس کے مطابق یہ بات چین میں ہونے والی ایک نئی طبی تحقیق میں سامنے آئی۔عام طور پر نئے کورونا وائرس کی اقسام میں ہر ماہ کے دوران ایک یا 2 تبدیلیاں ایک سے دوسرے فرد میں پھیلنے کے دوران آتی ہیں۔مگر اس تحقیق میں بتایا گیا کہ

کووڈ 19 سے صحتیاب ہونے والے کچھ بچوں کی آنتوں میں وائرس کی ساخت یا افعال میں ایک دن کے اندر ہی نوول میوٹیشن کو دریافت کیا گیا، جو اس دوران اپنی متعدد نقول بنارہا ہوتا ہے۔بیجنگ انسٹیٹوٹ آف جینومکس کی اس تحقیق میں شامل پروفیسر لی منگ کون نے بتایا کہ ہم نے 182 مقامات 229 انٹر ہوسٹ ورژنز کو شناخت کیا۔وائرس میں آنے والی تبدیلیاں اس وبا سے لڑنے کے لیے ادویات اور ویکسینز کے لیے خطرہ ہیں، کیونکہ اس سے ان کی افادیت متاثر ہوسکتی ہے۔چائنا نیشنل سینٹر فار بائیو انفارمیشن کے مطابق اب تک دننیا بھر میں سائنسدانوں نے نئے کورونا وائرس کے آر این اے میں 21 ہزار سے زائد تبدیلیوں کو شناخت کیا ہے۔ان میں سے زیادہ تر تبدیلیاں وائرس کی ایک فرد کے جسم سے حاصل کی گئے وائرس کی ایک قسم میں دریافت کی گئی اور کچھ سائنسدانوں کے خیال میں یہ تو بس آغاز ہے، کیونکہ دنیا کی بیشتر آبادی کے نمونے حاصل نہیں ہوسکے۔یہ وائرس انسانی جسم کے اندر خود کو مختلف اقسام میں بدل سکتا ہے، اس چیز کو طبی زبان میں انٹرا ہوسٹ میوٹیشن کہا جاتا ہے۔مگر سائنسدانوں کے پاس کوئی ٹھوس ثبوت نہیں تھے، اگرچہ ایک مریض میں مختلف اقسام کو دیکھا گیا، مگر وہ کو انفیکشن کا نتیجہ بھی ہوسکتا ہے۔اس نئی تحقیق میں شواہد کے لیے اس بیماری کو شکست دینے والے 9 بچوں کے فضلے کے نمونے اکٹھے کیے گئے۔محققین نے دریافت کیا کہ

منہ یا ناک کے مواد کے مقابلے میں فضلے کے نمونے میں زیادہ وائرل مواد ہوتا ہے، کچھ پرانی تحقیقی رپورٹس کے مطابق کورونا وائرس انسانی آنتوں کی سطح پر موجود خلیات پر موثرانداز سے حملہ آور ہوتا ہے۔وائرسز میں ہر وقت تبدیلیاں آتی ہیں اور اب تک نئے کورونا وائرس میں آنے والی تبدیلیاں بظاہر کسی نقصان کا باعث نظر نہیں آتیں۔مگر چینی محققین نے دریافت کیا کہ ایک بچے میں صرف

ایک دن کے اندر ہی غیرمتوقع میوٹیشن ہوئی، جس میں وائرس کی ساخت اور سرگرمیاں تبدیل ہوگئیں، تاہم اس کے اضافی اثرات کے بارے میں ابھی تحقیق کرنا باقی ہے۔اس سے ملتی جلتی جینیاتی تبدیلیاں دیگر بچوں میں 5 دن کے اندر دیکھنے میں آئیں۔مگر اتنی برق رفتار تبدیلیاں بری خبر ہے؟ اس بارے میں سائنسی برادری کی رائے ملی جلی ہے۔کچھ سائنسدانوں کا ماننا ہے کہ ایک تبدیلی عموما وائرس کو

فائدے کی بجائے نقصان پہنچاتی ہے، مگر دیگر کا کہنا ہے کہ کچھ وائرسز جیسے ایچ آئی وی، برق رفتار تبدیلیوں کو ویکسین یا ادویات کو دھوکا دینے کے لیے استعمال کرتا ہے۔اس تحقیق میں شامل ماہرین کا کہنا تھا کہ وائرل جینز میں برق رفتار تبدیلیاں بظایر اینٹی وائرل ادویات کے خلاف حفاظتی ردعمل کا کام کررہی تھیں اور ایک سے دوسرے بچے میں جینیاتی تبدیلیوں کا حجم مختلف تھا۔انہوں نے بتایا کہ ان مسائل کی وجہ سے وائرس میں مستقبل میں آنے والی تبدیلیوں کی ٹریکنگ اور پیشگوئی بہت مشکل ہے۔انہوں نے کہا کہ ہماری تحقیق میں انٹرا ہوسٹ ڈائنامکس کی تفصیلی تحقیق کی ضرورت کی عکاسی کرتی ہے، جس میں ہر عمر اور علاقوں کے افراد کو شامل کیا جانا چاہیے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



مذہبی جنگ(دوسرا حصہ)


بنی اسرائیل نے فلسطین واپسی کے بعد یہودا قبیلے…

مذہبی جنگ

رچرڈ نکسن امریکا کے 37ویں صدر تھے‘ یہ بھی ڈونلڈ…

اینڈ آف مسلم ورلڈ

ہمیں ایران امریکا جنگ کے نتیجے کو سمجھنے کے لیے…

عربوں کا کیا قصورہے؟

ایف 35 دنیا کا مضبوط اور مہلک ترین فائٹر جیٹ ہے‘…

اختتام کا آغاز

’’ہمارے پاس صرف 35 سال ہیں‘ ہم ان میں جتنا جی…

امانت خان شیرازی

بادشاہ اس وقت برہان پور میں تھا‘ مغل دور میں…

ہائوس آف شریف

جنرل غلام جیلانی نے جنرل ضیاء الحق کو آرمی چیف…

نواز شریف کی سیاست میں انٹری

لارنس گارڈن کے کرکٹ گرائونڈ میں میچ چل رہا تھا‘…

چوہے کھانا بند کریں

ہندوستان کا کوئی شہزادہ مہاتما بودھ کے پاس گیا…

رعونت پر بکھری ہوئی خاک

کراچی میں وسیم انصاری نام کا ایک چھوٹا سا سٹیج…

وہ واقعہ جو کتاب میں نہیں

1999ء میں دو وزیراعظم ہانگ کانگ میں ایک ہی ہوٹل…