منگل‬‮ ، 22 ستمبر‬‮ 2026 

کورونا کیسز میں اضافہ، حکومت خیبر پختونخوا نے سخت اقدامات کا با قاعدہ اعلامیہ جاری کر دیا

datetime 2  ‬‮نومبر‬‮  2020 |

پشاور(این این آئی)نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سنٹر(NCOC)کی ہدایات کی روشنی میں کرونا کیسز(COVID-19)کی روک تھام کیلئے حکومت خیبر پختونخوا نے سخت اقدامات کا با قاعدہ اعلامیہ جاری کر دیا ہے۔ اعلامیے کے مطابق دفاتر میں تمام افسران ، اہلکار اور دفاتر میں آنے والے افراد کو بغیر ماسک دفاتر میں داخلے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔دفاتر کے داخلہ گیٹ پر تمام افسران،

اہلکاروں اور آنے والے افراد کا ٹمپریچر چیک کیا جائے گا۔ اور کوئی بھی اس سے مستثنی نہیں ہو گا۔تمام سرکاری دفاتر، “سول سیکرٹریٹ، وزیر اعلیٰ سیکرٹریٹ اور گورنر ہاوٗس بشمول نظامت کے دفاتر ، ریجنل، ڈویژنل، ضلعی انتظامیہ اور دیگر دفاتر اور خود مختار اداروں اور دیگر سرکاری دفاتر میں غیر متعلقہ افراد کے داخلے پرپابندی ہوگی۔جبکہ دفاتر میں آنے والے تمام افراد کو ٹیلی فون، موبائل پر اپنا مسئلہ پیش کرنے کا موقع دیا جائیگا۔ تاہم اگر ضروری ہو تو ایسے تمام وزیٹرز کے معاملات ممکنہ طور پر متعلقہ عملے کے ساتھ استقبالیہ ڈیسک پر ہی نمٹائے جائیں گے۔ دفاتر میں کم از کم عملے کے ساتھ اہم امورنمٹائے جائیں گے۔ اور غیر ضروری عملہ بشمول چھوٹے بچوں کے ہمراہ آنے والی خواتین افسران اور اہلکاروں اور نزلہ زکام اور بخار اور کھانسی کی شکایت رکھنے والے اور دیگر امراض بشمول امراض قلب، امراض معدہ، گردہ، جگہ، ذیابیطس چھینک آنے یا بدن درد رکھنے والے اہلکار گھرپر ڈیوٹی انجام دیں گے۔ہر محکمہ اور ملحقہ ادارے کم ازکم ممکن عملے کے ساتھ سرکاری کام جاری رکھنے کیلئے حکمت عملی وضع کریںگا۔ سیکرٹری اپنے متعلقہ محکموں اور ملحقہ ڈائریکٹوریٹس اور کمشنرز اپنی حدود کے اندر ڈویژنل، ضلعی اور دیگر تمام دفاتر میں کم از کم ضروری عملے کا تعین کرنے کیلئے اتھارٹی ہوںگے۔دفاتر میں اجلاس اور بحث مباحثوں کے انعقاد سے گریز کیا جائے گا۔ اور

اس سلسلے میں ویڈیو کانفرسز، سپیکر فون یا دیگر الیکٹرانک آلات اور ذرائع سے استفادہ کیا جائے گا۔ پھر بھی اگر کوئی ضروری اجلاس طلب کیا گیا تو شرکت کرنے والے ہر شخص کی نشست میں کم از کم دو میٹر کا فاصلہ رکھنا یقینی بنایا جائے گا۔تقریبات اور دوسرے اجتماعات کو ترک کر دیا جائے گا۔حکومتی دفاترحدود میں مساجد میں اجتماعات کی صورت میں سماجی فاصلے اور ماسک

پہننے سمیت تمام احتیاطی تدابیر پر سختی سے عملدرآمد کیا جائے گا جبکہ جن افراد میں کورونا کی علامات ہو انکو مساجد میں داخلے کی اجازت نہیں ہونگی۔تمام دفاتر میں اہلکار،افسران اور وزیٹر ز اور ایک دوسرے کیساتھ روایتی گلے ملنے اور ہاتھ ملانے سے گریز کرنے کے ساتھ سماجی فاصلے کو برقرار رکھنے کو یقینی بنایا جائے گا۔ دروازوں ، ریلنگزاور سیڑھیوں اورلفٹ بٹنز کو ہاتھ

لگانے کو ترک کیا جائے گا۔ جبکہ جسمانی میل جول کی جگہوں پر جراثیم کش سپرے کیا جائے گا دفاتر میں سینیٹائزر رکھنے سمیت عام سہولیات کے استعمال کی چیزوں مثلاً تولیہ اور دوسرے اشیاء کے استعمال کو ترک کیا جائے گا۔ دفتر کے آلات مثلا ً کمپیوٹر کی بورڈ ، ماوٗس، فیکس مشین، سکینرز اور ٹیلی فون وغیرہ کے استعمال میں احتیاطی تدابیر کو اپنایا جائے گا۔متعلقہ حکام کی جانب سے

کووڈ19سے بچاوٗ کیلئے جاری کردہ ایس او پیز ہدایات اور صحت سے متعلق دوسرے احتیاطی تدابیرپر سختی سے عمل درآمد یقینی بنایا جائے ۔ کمشنر /ڈپٹی کمشنر فیلڈ میں ہدایات پر عملدر آمد کرائیں گے۔ خیبر پختونخوا ہاوٗسز کی متعلقہ انتظامیہ پہلے سے جاری کردہ ہدایات کو یقینی بنائیں گی ۔ اس امرکا اعلان محکمہ انتظامیہ حکومت خیبر پختونخوا کی جانب سے جاری کردہ ایک اعلامیے میں کیا گیا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…