منگل‬‮ ، 22 ستمبر‬‮ 2026 

لاہور کے معروف جنرل ہسپتال کے ایڈیشنل ایم ایس کی ڈگری ہی جعلی نکل آئی ، سارا معاملہ کیا تھا ؟ سن کر پاکستانیوں کے ہوش گم ہو جائیں گے

datetime 13  اکتوبر‬‮  2020 |

لاہور( این این آئی )محکمہ اینٹی کرپشن پنجاب نے ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن کے منا بھائی ایم بی بی ایس کو دھر لیا،ملزم کے دوست ماسٹر منظور احمد المعروف سرکٹ کے گرد بھی شکنجہ سخت کردیاگیا،ماسٹر منظور نے ملزم کو ڈاکٹر اجمل بنانے میں سرکٹ کا کردار ادا کرتے ہوئے جعلی ڈگری کا جگاڑ لگا کر دیا ۔

محکمہ اینٹی کرپشن پنجاب نے جعلی ڈاکٹروں کے گرد بھی گھیرا تنگ کر دیا ہے۔ سابق صدر ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن پنجاب اور موجودہ ایڈیشنل ایم ایس جنرل ہسپتال ڈاکٹر اجمل کی ڈگری جعلی نکل آئی ۔ اینٹی کرپشن پنجاب ہائیکورٹ سے ضمانت کی منسوخی کے بعد اینٹی کرپشن بہاولپور نے ملزم کو گرفتار کر کے پرچہ درج کر لیا ۔ ڈی جی اینٹی کرپشن پنجاب گوہر نفیس کے مطابق ملزم نے 1996-97 میں ایف ایس سی کی جعلی ڈگری بنوا کر قائداعظم میڈیکل کالج بہاولپور میں داخلہ لیا تھا ،ماسٹر منظور احمد نامی شخص نے ملزم کو حیدرآباد بورڈ سندھ سے ایف ایس سی کی جعلی ڈگری بنو اکر دی ،ایم بی بی ایس کے تیسرے سال قائداعظم میڈیکل کالج بہاولپور سے تگڑی سفارش کروا کے پنجاب میڈیکل کالج مائیگریشن کروا لی،پی ایم سی نے حیدرآباد بورڈ سے ایف ایس سی کی ڈگری کی تصدیق کرائی تو ڈگری جعلی نکلی۔ ڈی جی اینٹی کرپشن گوہر نفیس کے مطابق میڈیکل کالج نے ملزم کو ایم بی بی ایس کے تیسرے سال ایکسپیل کر دیا تھا،ملزم نے جعلی مائیگریشن لیٹر بنوا کر بقائی یونیورسٹی حیدر آباد کے میڈیکل کالج کے فائنل ائیر میں داخلہ لے لیا اور یوں ایک سال بعدایف ایس سی کی جعلی ڈگری داخلہ لینے پر ایم بی بی ایس ڈاکٹر بن گیا ۔ملزم نے ڈاکٹری کی ساری تعلیم اور بعد میں ساری نوکری ایف ایس ای کی جعلی ڈگری پر کی۔ ایف ایس سی میں ملزم کے اصل نمبر 630 ہیں جو کہ میڈیکل میں داخلہ کے لئے انتہائی ناکافی ہیں جبکہ میرٹ لسٹ میں داخلے کے لئے جو ڈگری دکھائی گئی اس پرملزم کے نمبر 855 تھے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…