منگل‬‮ ، 22 ستمبر‬‮ 2026 

چائے جینز میں تبدیلیاں لانے کا باعث دوران تحقیق اہم انکشافات سے ماہرین بھی حیران

datetime 13  ستمبر‬‮  2020 |

لاہور(یوا ین پی)چائے کے متعدد طبی فوائد سامنے آتے رہتے ہیں جیسے ہارٹ اٹیک اور ہائی بلڈپریشر کا خطرہ کم کرنے سے لے کر مخصوص اقسام کے کینسر سے تحفظ دینے تک۔ مگر اب ایک نئی طبی تحقیق میں بتایا گیا کہ یہ گرم مشروب جینز پر بھی اثرانداز ہوتا ہے۔ یہ بات سوئیڈن میں ہونے والی ایک طبی تحقیق میں سامنے آئی۔ اپپسلا یونیورسٹی کی تحقیق میں بتایا گیا کہ چائے پینے کی

عادت ڈی این اے کو ممکنہ طور پر تبدیل کردیتی ہے جو کہ امراض اور مجموعی صحت کے حوالے سے اہم کردار ادا کرتا ہے۔ تحقیق میں بتایا گیا کہ یہ گرم مشروب 28 مختلف جینز میں تبدیلیاں لاتا ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ مردوں کے مقابلے میں خواتین کے جینز میں تبدیلیاں لانے کے حوالے سے چائے اہم کردار ادا کرتی ہے۔ اس تحقیق کے دوران یورپ بھر سے تین ہزار سے زائد بالغ افراد کے ڈی این اے نمونے لیے گئے جو کہ چائے اور کافی پینے کے شوقین تھے۔ نتائج سے معلوم ہوا کہ جو لوگ سیاہ چائے کو اکثر پیتے ہیں ان کے ڈی این اے میں موجود جینز میں تبدیلیاں دیکھنے میں آتی ہیں۔ محقین کا کہنا تھا کہ اس تحقیق میں چونکہ خواتین رضاکاروں کی تعداد زیادہ تھی تو مردوں پر اس کے حقیقی اثرات جاننے کے لیے مزید ریسرچ کی ضرورت ہے۔ انہوں نے بتایا کہ یہ بات پہلے ثابت ہوچکی ہے کہ اس گرم مشروب کا استعمال خواتین میں ورم کی سطح اور ایسٹروجن کی سطح میں کمی لاتا ہے جو کہ مختلف امراض سے تحفظ دیتا ہے۔ یہ تحقیق طبی جریدے ہیومین مالیکیولر جینیٹکس میں شائع ہوئی۔ اس سے پہلے رواں سال سنگاپور میں ہونے والی تحقیق میں یہ بات سامنے آئی تھی کہ روزانہ کم از کم ایک کپ چائے پینا دماغی تنزلی یا یوں کہہ لیں دماغی مرض ڈیمینشیا کا خطرہ نمایاں حد تک کم کرتا ہے۔ اس تحقیق کے دوران 55 سال سے زائد عمر کے 957 افراد کی چائے نوشی کی عادت کا جائزہ بارہ سال تک لیا گیا۔ تحقیق کے دوران ہر دو برس بعد رضاکاروں کے دماغی افعال کا جائزہ لیا جاتا ہے جبکہ محققین نے ان کے طرز زندگی، طبی عوارض اور جسمانی سرگرمیوں کی معلومات بھی اکھٹی کی۔ تحقیق میں بتایا گیا کہ دنیا بھر میں مقبول اس مشروب کا روزانہ استعمال عمر بڑھنے کے ساتھ دماغ کو لاحق ہونے والے اس مرض کا خطرہ 50 فیصد تک کم کردیتا ہے۔ تحقیق کے مطابق سبز یا ہو سیاہ چائے اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا، یہ دونوں ہی دماغ پر یکساں انداز سے مثبت اثرات مرتب کرتی ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…