منگل‬‮ ، 22 ستمبر‬‮ 2026 

کرونا وائرس کے مریضوں کیلئے الگ ہسپتال کا قیام ، بڑا مطالبہ سامنے آگیا  

datetime 5  مئی‬‮  2020 |

اسلام آباد(این این آئی)صحت ماہرین نے کورونا کے علاج کیلئے علیحدہ ہسپتال مختص کرنے کا مطالبہ کردیا۔نجی ٹی وی کے مطابق نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف ہیلتھ (این آئی ایچ) کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر میجر جنرل عامر اکرام نے بتایا کہ اگرچہ ترقی یافتہ ممالک کیلئے بھی مخصوص بیماریوں کیلئے علیحدہ ہسپتالوں کا قیام مشکل ہے تاہم کورونا وائرس نے اس کا موقع فراہم کردیا ہے۔انہوںنے کہاکہ ہم چک شہزاد میں

250 بستروں پر مشتمل ایک ہسپتال قائم کر رہے ہیں جو کورونا وائرس کے مریضوں کے لیے ہوگا، بارش کے باعث ہسپتال کی تعمیر مکمل ہونے میں تاخیر ہوئی ہے لیکن مجھے امید ہے کہ راتوں رات مکمل ہوجائے گا‘۔انہوں نے کہا کہ اس کے بعد یہ کورونا وائرس کے مریضوں کے علاج کے لیے استعمال ہوگا اور بعد میں اس طرح کے ہسپتالوں کی پورے ملک میں نقل تیار کی جائے گی۔پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن (پی ایم اے) کے جنرل سیکریٹری ڈاکٹر قیصر سجاد نے کہا کہ خصوصی ہسپتال وقت کی ضرورت ہیں۔انہوں نے کہا کہ یہی غلطی اٹلی میں کی گئی تھی، جہاں کورونا وائرس اور دیگر (بیماریوں) کے مریضوں کو ایک ہی انتہائی نگہداشت یونٹوں میں رکھا گیا تھا۔انہوںنے کہاکہ بدقسمتی سے متعدد ہسپتال ایک ہی وقت میں کورونا وائرس کے مریضوں کا علاج کر رہے ہیں جس سے بستر اور وینٹیلیٹر حاصل کرنا مشکل ہوجاتا ہے۔انہوں نے بتایا کہ 22 جنوری کو پی ایم اے نے صحت حکام کو ایک خط لکھا تھا کہ وہ کورونا وائرس کے لیے علیحدہ ہسپتال قائم کریں گے، اس کی وجہ سے یہاں تک کہ ایک ایمبولینس ڈرائیور بھی جانتا ہوگا کہ مریض کو کہاں منتقل کرنا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ جب تک کہ ہمارے پاس علیحدہ مختص ہسپتال نہیں ہیں ہمیں ایک مربوط نظام قائم کرنا چاہیے تاکہ بستر کی کمی کی وجہ سے مریض نہ مریں۔پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (پمز) کے ترجمان ڈاکٹر وسیم خواجہ نے

اسی طرح ہسپتالوں کو علیحدہ کرنے کی ضرورت پر زور دیا کہ ایک وہ جو صرف کورونا ئوارس کے مریضوں کا علاج کرتے ہیں اور دوسرے جو ہر کسی کا علاج کرتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ ایک ہی ہسپتال کو کورونا وائرس اور غیر دیگر بیماریوں کا بیک وقت علاج نہیں کرنا چاہیے۔انہوں نے کہا کہ اگر کورونا وائرس کے تمام کیسز کا علاج پمز میں کرنا پڑتا ہے تو اس وقت کے لیے دیگر تمام صحت کی خدمات معطل کردی جانی چاہی

ے تاکہ وائرس سے دوسرے مریضوں میں اور وائرس سے متاثرہ لوگوں کا علاج نہ کرنے والے عملے کے افراد میں اسے پھیلنے سے روکا جاسکے‘۔انہوں نے کہا کہ فیڈرل جنرل سروسز اور کیپیٹل ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے ہسپتال کورونا کے علاوہ دیگر بیماریوں کا علاج کر سکتے ہیں۔ڈاکٹر وسیم خواجہ نے کہا کہ اب وقت آگیا ہے کہ تمام صحت کی دیکھ بھال کرنے والے عملے کی حفاظت کی جائے جن میں کورونا وائرس آہستہ آہستہ پھیل رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ طبی پیشہ ور افراد کو تحفظ فراہم کرنا چاہیے تاکہ وہ دوسروں کا علاج کرسکیں۔انہوں نے بتایا کہ اسلام آباد کے ہسپتالوں میں داخل ہونے والے کورونا وائرس کے زیادہ تر مریض شہر کے

مقامی نہیں ہیں، ایسے مریضوں کو ان کے آبائی علاقوں یا رہائشی اضلاع میں واپس بھیجنا چاہیے جہاں انھیں آئی سولیشن میں رکھا جاسکتا ہے اور علاج کیا جاسکتا ہے۔انہوں نے کہا کہ اگر مریض اسلام آباد کا مقامی نہیں ہے تو یہ پمز پر بہت بڑا بوجھ ہوگا، کورونا وائرس کے مریضوں کو ان کے رہائشی پتے کے مطابق تقسیم کیا جانا چاہیے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…