منگل‬‮ ، 10 مارچ‬‮ 2026 

بھارت نے مختلف ادویات میں استعمال کیے جانے والے خام مال اور کیمیکلز پاکستان کو دینے سے روک دیا

datetime 30  اگست‬‮  2019 |

مظفر آباد (این این آئی)بھارت کی جانب سے کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنے کے بعد پاکستان نے انڈیا سے تمام تجارتی تعلقات منقطع کر دئیے جس کے بعد انڈیا سے آنے والے اور مختلف ادویات میں استعمال کیے جانے والے خام مال اور کیمیکلز کو بھی پاکستان میں داخل ہونے سے روک دیا گیا ۔اس پابندی کے باعث پاکستان میں فارماسوٹیکل انڈسٹری کے مطابق زندگی بچانے والی بیشتر ادویات کی

قیمتوں میں اضافے اور مارکیٹ میں ان کی کمی کا خدشہ بڑھنے لگا ہے۔پاکستان میں ادویات کی قلت کے خدشے کے پیش نظر گذشتہ ہفتے وفاقی وزیر برائے صحت ڈاکٹر ظفر مرزا اور پاکستان فارماسوٹیکل مینوفیکچررز ایسوسی ایشن کے وفد کے درمیان ہونے والی ملاقات میں فریقین نے ایک دوسرے کو اپنے اپنے تحفظات سے آگاہ کیا اور مسئلے کا جلد از جلد حل نکالنے کی ضرورت پر بھی اتفاق کیا۔پاکستان فارماسوٹیکل مینوفیکچررز ایسوسی ایشن کے سابق چیئرمین امجد علی جاوا کے مطابق یہ بات سچ ہے کہ پاکستان میں بنائی جانے والی ادویات میں استعمال ہونے والے خام مال کا تقریباً 50 فیصد حصہ انڈیا سے درآمد کیا جاتا ہے۔انہوںنے کہاکہ 820 ایسے کیمیکلز ہیں جو پاکستان کی درآمدات کا حصہ ہیں کیونکہ وہ کیمیکل پاکستان میں تیار نہیں کیے جاتے،کم وبیش 62 سے زیادہ ایسے کیمیکلز ہیں جس کے لیے پاکستان انڈیا پر زیادہ انحصار کرتا ہے جن میں سے تقریباً 23 کیمیکلز ایسے ہیں جو زندگی بچانے والی ادویات میں استعمال ہوتے ہیں،یہ ادویات دل کے امراض، ذیابیطس، بلڈ پریشر، ٹی بی اور کینسر جیسی بیماریوں کے لیے استعمال کی جاتی ہیں جبکہ ٹی بی کی ادویات میں استعمال ہونے والا کیمیکل ’ایتھمبیوٹول‘ کا انڈیا ہی واحد ذریعہ ہے،کم و بیش 65 کیمیکلز ایسے بھی ہیں جن کے لیے پاکستان انڈیا پر کم انحصار کرتا ہے۔امجد علی جاوا کے مطابق مارکیٹ میں ادویات کا نہ ملنا اور ادویات کی قیمتوں میں اضافہ تجارت کی بندش کے علاوہ مریضوں کی جانب سے چند مشہور اور مخصوص برینڈز کی زیادہ مانگ کے باعث بھی ہوتا ہے۔اس کا مطلب یہ ہے کہ ڈاکٹر اگر ایک مخصوص برانڈ کی دوا کا نسخہ لکھ کر دیتے ہیں تو مریض اسی دوا کو ترجیح دیتے ہیں، خواہ اس کے متبادل ادویات مارکیٹ میں کسی اور نام سے بھی دستیاب ہوں۔دوسری جانب پاکستان میں ادویات کی صنعت کے نگران ادارے ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی آف پاکستان کے ترجمان اختر عباس نے بی بی سی کو بتایا کہ ادویات کی قیمتوں میں اضافہ یا کمی کرنا صرف وفاقی کابینہ کے اختیار میں ہے،اگر کوئی حکومت کی مقرر کردہ قیمت سے زیادہ قیمت پر دوائی فروخت کرتا ہے تو عوام کو یہ حق ہے کہ وہ ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی میں ان کے خلاف شکایت درج کریں۔



کالم



مذہبی جنگ


رچرڈ نکسن امریکا کے 37ویں صدر تھے‘ یہ بھی ڈونلڈ…

اینڈ آف مسلم ورلڈ

ہمیں ایران امریکا جنگ کے نتیجے کو سمجھنے کے لیے…

عربوں کا کیا قصورہے؟

ایف 35 دنیا کا مضبوط اور مہلک ترین فائٹر جیٹ ہے‘…

اختتام کا آغاز

’’ہمارے پاس صرف 35 سال ہیں‘ ہم ان میں جتنا جی…

امانت خان شیرازی

بادشاہ اس وقت برہان پور میں تھا‘ مغل دور میں…

ہائوس آف شریف

جنرل غلام جیلانی نے جنرل ضیاء الحق کو آرمی چیف…

نواز شریف کی سیاست میں انٹری

لارنس گارڈن کے کرکٹ گرائونڈ میں میچ چل رہا تھا‘…

چوہے کھانا بند کریں

ہندوستان کا کوئی شہزادہ مہاتما بودھ کے پاس گیا…

رعونت پر بکھری ہوئی خاک

کراچی میں وسیم انصاری نام کا ایک چھوٹا سا سٹیج…

وہ واقعہ جو کتاب میں نہیں

1999ء میں دو وزیراعظم ہانگ کانگ میں ایک ہی ہوٹل…

بخاریؒ کو امام بنانے والے لوگ

نویں صدی کا شہر بخاراتھا اور اس شہر میں ایک سادہ…