جمعرات‬‮ ، 24 ستمبر‬‮ 2026 

متبادل ادویات کی رجسٹریشن مینوئل کے بجائے کمپیوٹرائزڈ نظام پر منتقل

datetime 26  اگست‬‮  2019 |

اسلام آباد( آن لائن ) ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی کی ہیلتھ اینڈ او ٹی سی کو2014سے اب تک متبادل ادویات کی رجسٹریشن کے لیے مجموعی طور پر کل21867 درخواستیں موصول ہوگئیں،متبادل ادویات کی رجسٹریشن کے لیے دائر درخواستوں کو مینوئل نظام سے کمپیوٹرائزڈ نظام پر

منتقل کر دیا گیا۔ تفصیلات کے مطابق ڈریپ نے 2014 سے اب تک متبادل ادویات کی رجسٹریشن کے لیے موصول ہونے والی21 ہزار867 درخواستوں کی عبوری لسٹ تیار کر لی، ڈریپ نے عبوری لسٹ کو ادویہ ساز کمپنیوں کے ساتھ شیئر کرتے ہوئے 15 ایام کے اندر ان سے رائے طلب کرلی ہے تاکہ لسٹ کو حتمی شکل دے کر اس کو آٹومیشن نظام پر ڈالا جاسکے۔ ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی کی ہیلتھ اینڈ او ٹی سی کو2014سے اب تک متبادل ادویات کی رجسٹریشن کے لیے مجموعی طور پر کل21867 درخواستیں موصول ہوئی ہے۔متبادل دواں کی رجسٹریشن کیلیے ملک بھر میں قائم تمام ادویہ ساز کمپنیوں نے درخواستیں دائر کی ہے ، کمپنیوں نے جن متبادل ادویات کی رجسٹریشن کیلیے درخواستیں دی ہیں ان میں ٹیبلٹ، کیپسول، ڈراپ، ساشے، سیرپ، سافٹ جل،سوپ، آئل، کریم، لوشن، شیمپو، آئنمنٹ، جیل،لیکوئڈ، طاقت کی گولیاں،فیس واش، ماتھ واش، سپرے،سن بلاک،سن اسکرین، رنگ گورا کرنے والی کریم،پاڈر، ملک، ٹیوب، فیڈ اور دیگر ادویات شامل ہیں۔ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی نے پہلی مرتبہ متبادل ادویات کی رجسٹریشن کیلیے موصول تمام درخواستوں کی عبوری لسٹ تیار کرتے ہوئے اسے متعلقہ کمپنیوں کے ساتھ شیئر کرلیا ہے،ڈریپ نے متعلقہ کمپنیوں کو یہ ہدایت بھی کی ہے کہ وہ عبوری لسٹ پر 15روز کے اندر اپنی آرا ڈریپ ہیڈ آفس میں جمع کرائیں تاکہ ان کو مد نظر رکھتے ہوئے ادویات کی لسٹ کو حتمی شکل دی جائے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…