بدھ‬‮ ، 16 ستمبر‬‮ 2026 

وٹامن ڈی کی کمی کو دور کرنے کے لئے روزانہ کتنے انڈے استعمال کئے جائیں؟

datetime 17  جنوری‬‮  2019 |

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) وٹامن ڈی جسم کے لیے انتہائی اہم ہوتا ہے جو کہ ہڈیوں، دانتوں اور مسلز کو صحت مند رکھتا ہے۔ مگر اس وٹامن کی کمی کے نتیجے میں جسم کے لیے کیلشیئم کو ریگولیٹ کرنا مشکل ہوتا ہے۔ وٹامن ڈی کی بہت زیادہ کمی ہڈیوں میں درد، موسمی بیماریوں کا آسان شکار، ہر وقت تھکاوٹ، ہڈیوں کی کمزوری، ڈپریشن، خطرناک انفیکشن، خون کی شریانوں کے امراض

(بلڈ پریشر، فالج یا ہارٹ اٹیک وغیرہ)، ذیابیطس، بانجھ پن، کمردرد، بالوں کا گرنا اور بہت زیادہ پسینے جیسے مسائل کا باعث بن سکتی ہے۔ مگر اچھی بات یہ ہے کہ آپ ناشتے میں انڈے کھا کر اس کمی سے بچ سکتے ہیں۔ انڈوں ان چند غذاﺅں میں سے ایک ہے جو قدرتی طور پر وٹامن ڈی سے بھرپور ہوتی ہیں اور 2 انڈوں میں 3.2 ایم سی گی وٹامن ڈی موجود ہوتا ہے اور ہفتہ بھر میں 6 انڈے کھانا صحت کو اچھا بنانے کے لیے کافی ہے۔ طبی ماہرین کے مطابق انڈوں میں موجود وٹامن ڈی اور دیگر اجزا اچھی صحت کے ساتھ عمر بڑھنے سے لاحق ہونے والی بیماریوں کی روک تھام میں مدد دیتے ہیں۔ اسی طرح انڈے جسمانی وزن میں کمی، یاداشت کو بہتر بنانے، آنکھوں اور ہڈیوں کی صحت کے لیے بھی فائدہ مند ہیں۔ اور یہ خیال رہے کہ وٹامن ڈی کی کمی انتہائی عام عارضہ ہے جس کے شکار دنیا بھر میں کروڑوں افراد ہیں۔ چونکہ یہ وٹامن صحت اور لمبی عمر کے لیے لازمی ہے تو اس کی کمی دور کرنا بھی ضروری ہے۔ انڈوں کا زیادہ استعمال اس حوالے سے فائدہ مند ہے جبکہ چربی والی مچھلی بھی اس میں مدد دے سکتی ہے تاہم وہ کافی مہنگی ثابت ہوتی ہے۔ واضح رہے کہ 50 سال سے کم عمر افراد کو روزانہ 5 ایم سی جی وٹامن ڈی کی ضرورت ہوتی ہے جبکہ 50 سے 65 سال کی عمر کے افراد کے لیے یہ مقدار 10 ایم سی جی اور 65 سال سے زائد عمر کے افراد کے لیے 15 ایم سی جی ہے۔ انڈوں کے ساتھ سورج میں روزانہ بیس سے 30 منٹ گھومنا بھی وٹامن ڈی کی کمی کے خطرے سے بچاتا ہے۔ یہ مضمون عام معلومات کے لیے ہے۔ قارئین اس حوالے سے اپنے معالج سے بھی ضرور مشورہ لیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



صرف ایک شخص کے لیے


کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…