بدھ‬‮ ، 16 ستمبر‬‮ 2026 

پاکستان میں جگر کے امراض میں اضافہ، ہر بارہواں شخص ہیپاٹائٹس کا شکار

datetime 16  جنوری‬‮  2019 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)روزانہ 100سے زائد افراد موت کے منہ میں چلے جاتے ہیں، ہیپا ٹائٹس بی اور سی خطرناک، مریضوں کی اکثریت مرض سے لاعلم رہتے ہیں۔پاکستان میں ہیپاٹائٹس بی سی تشویشناک صورتحال اختیار کر گیا، ہر 12واں شخص ہیپاٹائٹس کے عارضے میں مبتلا ہے اور 100 سے زائد افراد روزانہ اس بیماری کی وجہ سے لقمہ اجل بن جاتے ہیں۔ ہیپاٹائٹس کے مریضوں کی تعداد

90 لاکھ سے تجاوز کر چکی ہے جبکہ ملک بھر میں دونوں بیماریوں میں مبتلا افراد کی تعداد ڈیڑھ کروڑ سے زیادہ ہے جن میں سے اکثریت کو اپنی بیماری کا علم ہی نہیں ہے۔ڈاکٹرز کا کہنا ہے کہ ہیپاٹائٹس اے بھوک کو ختم کر دیتا ہے اور جگر میں سوزش کا باعث بنتا ہے۔ ہیپاٹائٹس بی یا کالا یرقان سب سے خطرناک ہے جبکہ ہیپاٹائٹس سی میں عموماً 20 تا 40 سال کی عمر کے لوگ مبتلا ہوتے ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



صرف ایک شخص کے لیے


کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…