اتوار‬‮ ، 02 اگست‬‮ 2026 

تنہائی سے بچنے کا آسان حل

datetime 13  جنوری‬‮  2019 |

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) انسان ایک سماجی جانور ہے۔ یہ اپنے جیسے دوسرے انسانوں کے ساتھ گھل مل کر رہنا چاہتا ہے اور ایسا نہ ہو تو مختلف طبی و نفسیاتی پیچیدگیوں کا شکار ہوجاتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ ایسے افراد جو تنہا زندگی گزارنا پسند کرتے ہوں، کسی اجنبی شہر میں اپنوں سے دور

رہتے ہوں یا اپنے شریک حیات سے علیحدگی اختیار کرچکے ہوں ان میں امراض قلب، فالج اور بلڈ پریشر سمیت دیگر کئی بیماریوں کا امکان ان افراد کی نسبت دوگنا ہوتا ہے جو اپنوں کے درمیان زندگی گزار رہے ہوں۔ ایک تحقیق میں انکشاف ہوا کہ ہفتے میں صرف 2 گھنٹے کے لیے رضا کارانہ سماجی خدمات انجام دینا اکیلے پن کے احساس میں کمی جبکہ اس کے منفی اثرات سے بچانے میں مدد دیتا ہے۔ یہ تحقیق جرنلز آف جرنٹالوجی: سوشل سائنسز میں شائع کی گئی جس میں حال ہی میں بیوہ ہونے والی خواتین کو شامل کیا گیا۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ رضاکارانہ خدمات انجام دینے کے دوران آپ مختلف کمیونٹیز کے افراد سے ملتے ہیں، ان کے ساتھ گفتگو کرتے ہیں اور ہنسی مذاق کرتے ہیں۔ ان کے مطابق اس کے اثرات دل اور دماغ پر بالکل ویسے ہی ہوتے ہیں جیسے اہل خانہ، عزیزوں یا دوستوں کے ساتھ وقت گزارنے سے ہوتے ہیں۔ تحقیق میں بتایا گیا کہ رضا کارانہ خدمات چونکہ جسمانی طور پر بھی متحرک کرتی ہیں لہٰذا جسم میں خون کی روانی تیز ہوتی ہے جو اداسی، یاسیت اور دکھ کے جذبات کو کم کرتا ہے۔ یاد رہے کہ 40 سال سے زائد عمر کے افراد کا تنہا رہنا ان کی دماغی صحت پر بدترین اثرات مرتب کرتا ہے اور تنہائی کا زہر ان کی قبل از وقت موت کا سبب بھی بن سکتا ہے۔ تنہائی کے منفی اثرات دونوں اقسام کے افراد کو یکساں طور پر متاثر کرتے ہیں، ایک وہ جو شروع سے تنہا رہ رہے ہوں، اور دوسرے وہ جو کسی وجہ سے اپنے اپنوں یا شریک حیات سے علیحدگی کے بعد تنہا زندگی گزار رہے ہوں۔ ماہرین نے آگاہ کیا کہ تنہائی کے منفی اثرات کو کم کرنے کے لیے باقاعدہ رضاکارانہ خدمات انجام دی جائیں، تب ہی یہ تنہائی کے خلاف مؤثر ہتھیار ثابت ہوگا۔ سال میں ایک یا 2 بار انجام دی گئی سماجی خدمات اس سلسلے میں بے فائدہ ثابت ہوں گی۔



کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک


میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…

پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)

سکندراعظم پہلا حکمران تھا جس نے اپنے دور کی زیادہ…

پاکستان کا المیہ

شاہ جہاں 1626ء میں اپنے والد جہانگیر کے خلاف آخری…

سیٹی سے رزق کمانے والا انسان

بھارت میں 1975ء میں جولی کے نام سے فلم بنی ‘ اس…

وراثت

بنوں میں دو بھائی رہتے تھے‘ والد زمین دار اور…