بدھ‬‮ ، 16 ستمبر‬‮ 2026 

صحت مند رہنے کے لیے 3 کے بجائے 6 وقت کا کھانا کھائیں

datetime 10  جنوری‬‮  2019 |

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) ایک عمومی خیال ہے کہ دن میں 3 وقت سیر ہو کر کھانا صحت مند رکھتا ہے، لیکن اس بات میں کتنی حقیقت ہے؟ آئیں جانتے ہیں۔ ایک بین الاقوامی اسپورٹس نیوٹریشن کنسلٹنٹ مشل ایڈمز کا کہنا ہے کہ صرف غذائیت بخش اشیا کھانا ہی صحت کی ضمانت نہیں۔

بلکہ اہم یہ کہ انہیں اس طرح کھایا جائے کہ وہ جسم کو فائدہ پہنچائیں۔ مشل کا کہنا ہے کہ جب ہم کھانا کھاتے ہیں تو وہ ہمارے جسم کو توانائی فراہم کرتا ہے، اس توانائی کا ایک مخصوص وقت ہوتا ہے جس کے اندر اسے استعمال کرنا ہوتا ہے، اگر اس وقت میں اس توانائی کو استعمال نہ کیا جائے تو یہ چربی میں تبدیل ہوجاتی ہے اور وزن میں اضافے کا سبب بنتی ہے۔ مشل کا یہ بھی کہنا ہے کہ اگر آپ وزن کم کرنا چاہتے ہیں، تو 3 وقت سیر ہو کر کھانے کا خیال چھوڑ دیں اور اس کی جگہ دن میں 6 وقت کھانا کھائیں۔ اس بات کی ایک توجیہہ یہ بھی ہے کہ 2 کھانوں کے درمیان آنے والا وقفہ بہت زیادہ ہوتا ہے جس میں آپ کی بھوک چمک اٹھتی ہے لہٰذا جب کھانا آپ کے سامنے آتا ہے تو آپ معمول سے زیادہ کھا لیتے ہیں، یوں آپ کی وزن کم کرنے کے لیے بھوکا رہنے کی کوشش ضائع ہوجاتی ہے۔ مشل کا کہنا ہے کہ 3 وقت کھانے کے بجائے اپنے کھانے کو 6 وقت میں تقسیم کریں اور کھانے کی مقدار کم رکھیں۔ اس سے نہ صرف آپ کی بھوک قابو میں رہے گی بلکہ کھائی جانے والی تمام غذائیت جزو بدن ہو کر آپ کو صحت مند بنائے گی۔ اس طریقے پر عمل کر کے آپ کو کسی چیز سے پرہیز بھی نہیں کرنا پڑے گا اور آپ سب کچھ کھا سکیں گے۔ مشل کے مطابق اپنے کھانے کا شیڈول یوں بنائیں۔ ناشتہ: صبح 8 بجے اسنیکس 1: صبح ساڑھے 10 بجے دوپہر کا کھانا: 1 بجے اسنیکس 2: شام ساڑھے 4 بجے رات کا کھانا: شام 7 بجے اسنیکس 3: رات ساڑھے 9 بجے آپ کو کتنی کیلوریز درکار ہیں؟ ماہرین کے مطابق کیلوریز کی اسٹینڈرڈ مقدار مردوں کے لیے فی کلو 28 اور خواتین کے لیے 25 ہے۔ آپ کو دن میں کتنی کیلوریز درکار ہیں، یہ جانے کے لیے اپنے موجودہ وزن کو 28 (مرد) یا 25 (خاتون) سے ضرب دیں، یہ حساب آپ کو بتائے گا کہ دن میں کتنی کیلوریز آپ کو صحت مند رکھنے کے لیے ضروری ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



صرف ایک شخص کے لیے


کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…