بدھ‬‮ ، 16 ستمبر‬‮ 2026 

زیادہ گوشت کھانے سے انسان میں کس خطرناک بیماری کا خطرہ خوفناک حد تک بڑھ جاتا ہے؟ ماہرین کا انتباہ

datetime 5  جنوری‬‮  2019 |

سنگاپور (آئی این پی ) سنگاپور میں کی گئی تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ سرخ گوشت اور مرغی کھانے سے ذیابیطس کے مرض کا خطرہ بڑھ سکتا ہے۔یہ تحقیق سنگاپور کی آبادی میں کی گئی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ اگر اس کی جگہ مچھلی اور دیگر سمندری غذائیں کھائی جائیں تو اس سے کوئی نقصان نہیں ہوتا

اور کئی طبی فوائد حاصل ہوتے ہیں۔ اس سے قبل ماہرین کہہ چکے ہیں کہ سبزیوں اور پھلوں کا استعمال صحت کے لیے ازحد مفید ہوتا ہے اور ذیابیطس سمیت کئی امراض کو روکنے میں مددگار ہوتا ہے۔سنگاپور میں واقع ڈیوک این یو ایس میڈیکل اسکول کے پروفیسر وون پوائے کوہ اور ان کے ساتھیوں نے لال گوشت اور مچھلی کھانے اور ٹائپ ٹو ذیابیطس کے درمیان تعلق پر تحقیق کا فیصلہ کیا۔ اس مطالعے میں گوشت میں موجود فولاد پر بطورِ خاص غور کیا گیا۔اس کے لیے ماہرین نے سنگاپور کی آبادی کے 63 ہزار سے زائد افراد کا جائزہ لیا جن کی عمریں 45 سے 74 برس کے درمیان تھیں۔ ان افراد کا پانچ سال یعنی 1993 سے 1998 تک جائزہ لیا گیا۔ بعد ازاں 1999 اور 2004 میں اور پھر 2006 سے 2010 تک ان کے انٹرویو لیے گئے۔ماہرین اس نتیجے پر پہنچے کہ سرخ گوشت اور مرغی کھانے والوں میں ذیابیطس کا خطرہ بلند تھا جبکہ مچھلی اور سمندری غذا کھانے والے افراد میں اس مرض کا حملہ بہت کم کم ہوا۔ ماہرین اب اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ سرخ گوشت اگر معمول سے زیادہ کھایا جائے تو ذیابیطس کا خطرہ 23 فیصد اور اگر پولٹری مصنوعات مثلا مرغی وغیرہ کھائی جائے تو اس سے ذیابیطس کا خطرہ 15 فیصد تک بڑھ جاتا ہے۔ اگر اس کے بجائے مچھلی کھائی جائے تو یہ خطرہ معکوس یعنی پلٹ کر ختم ہونا شروع ہوجاتا ہے۔تحقیق میں یہ بات بھی سامنے آئی کہ سرخ گوشت اور پولٹری میں موجود فولاد یا ہیم (آئرن) اس کیفیت کو بڑھاتا ہے جو آگے چل کر ٹائپ ٹو ذیابیطس کی وجہ بنتی ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



صرف ایک شخص کے لیے


کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…