بدھ‬‮ ، 16 ستمبر‬‮ 2026 

ناقابل علاج کینسر کی شکار بچی کرشماتی طور پر شفایاب

datetime 20  دسمبر‬‮  2018 |

امریکا(مانیٹرنگ ڈیسک) جب 11 سالہ روکسلی ڈوس اور اس کے خاندان کو یہ بتایا گیا کہ اس بچی کو دماغی رسولی کا سامنا ہے جو کہ ناقابل علاج ہے تو ان کے دکھ کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔ امریکا کی معتبر جون ہوپکنز یونیورسٹی سمیت متعدد طبی اداروں نے اس رسولی کی تشخیص کرتے

ہوئے اس خاندان کو بتایا کہ اس کا کوئی علاج نہیں۔ یہ جون 2018 کی بات ہے اور 6 ماہ بعد یہ رسولی اچانک غائب ہوگئی، اس بچی کا ایم آر آئی کلیئر آیا جس میں رسولی کا کوئی سرا تک نہیں ملا۔ ڈاکٹروں کے پاس وضاحت کے لیے الفاظ نہیں کیونکہ اس کیس نے ان کے ذہنوں کو گھما کر رکھ دیا اور وہ اپنے سر کھجانے پر مجبور ہوگئے۔ ڈیل چلڈرنز میڈیکل سینٹر کی ڈاکٹر ورجینیا ہورڈ نے بتایا ‘یہ مرض بہت کم لوگوں کو شکار بناتا ہے اور یہ تباہ کن مرض ہے، اس سے کھانا نگلنے کی صلاحیت ختم ہوجاتی ہے، کئی بار بینائی ختم ہوجاتی ہے، بولنا مشکل ہوجاتا ہے اور بتدریج سانس لینا بھی مشکل ہوجاتا ہے’۔ اگرچہ اس مرض کا کوئی علاج نہیں مگر بچی کے خاندان نے 11 ہفتے کے ریڈی ایشن کورس کرانے کا فیصلہ کیا تھا۔ اس کے لیے ان کے دوستوں اور خاندان نے مالی مدد کی جبکہ متاثرہ خاندان نے علاج کے اخراج کے لیے ایک فنڈ بھی تشکیل دیا۔ ریڈی ایشن تھراپی عام طور پر کینسر زدہ خلیات کو ختم کرکے اس جان لیوا مرض کے پھیلنے کو عمل کو سست رفتار کردیتی ہے۔ اس کے لیے متعدد سیشنز کی ضرورت ہوتی ہے مگر ریڈی ایشن کو اس مرض کا کوئی علاج تصور نہیں کیا جاتا۔ ابھی تک ڈاکٹر یہ بتانے سے قاصر ہیں کہ اس بچی کا کینسر یا رسولی کیسے ختم ہوگیا، کیا اس میں ریڈی ایشن تھراپی نے کردار ادا کیا یا کسی اور چیز نے طبی ماہرین کے دماغوں کو گھما دیا۔ اگرچہ کینسر مکمل طور پر غائب ہوچکا ہے مگر خاندان اور بچی کے ڈاکٹروں نے احتیاطی تدابیر اختیار کرلی ہیں۔ یہ بچی تاحال علاج سے گزر رہی ہے تاکہ کینسر کی ممکنہ واپسی کے خلاف اس کی مزاحمت کو مضبوط بنایا جاسکے مگر حالات اس وقت کافی مثبت نظر آتے ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



صرف ایک شخص کے لیے


کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…