بدھ‬‮ ، 16 ستمبر‬‮ 2026 

نومولود بچے سے ملنے کے لیے جاتے ہوئے ان باتوں کا خیال رکھیں

datetime 19  دسمبر‬‮  2018 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک) ایک نئی زندگی کا اس دنیا میں آنا ایک طرف تو والدین اور قریبی افراد کے لیے خوشی کا باعث بنتا ہے، تو دوسری طرف کچھ مسائل پیدا کرنے کا باعث بھی بنتا ہے خصوصاً نومولود بچے اور ماں کو درکار ضروریات کو فوری طور پر پورا کرنے کے لیے

کچھ مشکل بھی پیش آسکتی ہے۔ خصوصاً جب کسی گھر میں پہلی بار نومولود بچے کی آمد ہو تو ایسے میں والدین اور دیگر اہل خانہ کی مشکل اور بھی بڑھ جاتی ہے جس سے نمٹنے کے لیے کچھ وقت درکار ہوتا ہے۔ ایسے میں نومولود بچے سے ملتے ہوئے کچھ باتوں اور احتیاطی تدابیر کا خیال رکھنا چاہیئے تاکہ گھر والے مزید مشکل میں مبتلا نہ ہوں، یہ تدابیر کچھ یوں ہیں۔ نومولود کی آمد کی خبر سنتے ہی اسپتال کی طرف دوڑ لگانا مناسب نہیں چاہے آپ کتنے ہی قریبی عزیز کیوں نہ ہوں۔ نومولود بچے اور ماں سے ملنے کے لیے کم از کم 24 گھنٹے بعد جائیں۔ البتہ اگر آپ سے مدد طلب کی جائے تو اسپتال جانے میں کوئی حرج نہیں۔ ملنے کے لیے جاتے ہوئے پرفیوم اور سگریٹ کے استعمال سے پرہیز کریں۔ اگر آپ ننھے بچے کی تصویر لینا چاہتے ہیں تو پہلے والدین سے اجازت لیں اور اجازت ملنے پر بغیر فلیش کے تصویر کھینچیں۔ نومولود بچہ اپنا زیادہ تر وقت سوتے ہوئے گزارتا ہے لہٰذا کمرے میں شور مت کریں۔ جب ماں بچے کو دودھ پلانے لگے تو کمرے سے باہر چلے جائیں۔ بچہ اپنے بستر میں آرام سے سو رہا ہوتا ہے لہٰذا پیار جتانے کے لیے اسے گود میں اٹھانے، ٹہلانے اور چومنے سے گریز کریں۔ اس سے بچہ ڈسٹرب ہوسکتا ہے۔ آدھے گھنٹے سے زیادہ ملاقات غیر ضروری ہے، بچے اور ماں کو آرام کی ضرورت ہوتی ہے لہٰذا طویل ملاقات سے اہلخانہ کو بے آرام نہ کریں۔ سب سے اہم بات یہ کہ اگر آپ کسی بھی بیماری میں مبتلا ہیں تو نومولود سے ملنے کا ارادہ ملتوی کردیں اور اپنی صحت یابی کا انتظار کریں۔ چھوٹے بچے نہایت حساس اور نازک ہوتے ہیں لہٰذا معمولی سے جراثیم بھی ان کے لیے مہلک ثابت ہوسکتے ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



صرف ایک شخص کے لیے


کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…