اتوار‬‮ ، 08 مارچ‬‮ 2026 

ننھی زینب کی جان بچانے کیلئے پوری دنیا میں نایاب خون کی تلاش تیز

datetime 9  دسمبر‬‮  2018 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک) پاکستانی نژاد دو سالہ امریکی بچی کی جان بچانے کے لیے خون کے ایک نایاب گروپ کی ضرورت جس کیلئے  دنیا بھر میں تلاش جاری ہے ۔برطانوی نشریاتی ادارے کے مطابق کینسر کے مرض میں مبتلا زینب مغل نامی اس بچی کو بڑی مقدار میں خون کی ضرورت ہے اور اس کا خون کا گروپ دنیا کا نایاب ترین گروپ بامبے نیگیٹو گروپ ہے جس کی وجہ سے اس کی تلاش میں مشکل پیش آ رہی ہے۔

اب تک ایک ہزار سے زیادہ لوگوں کا گروپ ٹیسٹ کیا گیا ہے لیکن اب تک صرف تین لوگ ایسے ملے ہیں جن کا یہی گروپ ہے تاہم ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ انہیں زینب کے علاج کے لیے سات سے دس عطیہ کنندگان کی ضرورت ہے۔چند ماہ قبل پتہ چلا تھا کہ زینب کو نیوروبلاسٹوما نامی مرض ہے جو خاص طور پر بچوں کو نشانہ بناتا ہے۔جب تک زینب کا علاج چلتا رہے گا، اسے خون کی ضرورت پڑتی رہے گی۔بتایا گیا ہے کہ بچی کے خون کا گروپ ایسا ہے جو صرف پاکستانی، انڈین یا ایرانی نژاد لوگوں میں پایا جاتا ہے تاہم ان ملکوں میں بھی صرف چار فیصد لوگوں کا یہی گروپ ہے۔دو عطیہ کنندگان امریکہ جبکہ ایک برطانیہ سے ملا ہے۔خون پر تحقیق کے ادارے ون بلڈ کی لیبارٹری مینیجر فریڈا برائٹ نے کہاکہ یہ خون اس قدر نایاب ہے کہ میں نے اپنی 20 سالہ پیشہ ورانہ زندگی میں پہلی بار اس قسم کے انتقال خون کا تجربہ کیا ہے۔خون سے ان کے مرض کا علاج نہیں ہو گا لیکن ان کے علاج کے دوران اس کی ضرورت پڑے گی۔زینب کے والد راحیل مغل کا تعلق پاکستان سے ہے انہیں ستمبر میں پتہ چلا کہ زینب کو یہ مرض ہے۔ زینب کے والدین نے اپنا خون دینے کی پیشکش کی لیکن معلوم ہوا کہ ان کا خون زینب کے خون سے نہیں ملتا جبکہ خاندان کے بہت سے لوگوں نے بھی خون دینے کی کوشش کی لیکن یہ گروپ میچ نہیں ہوا ۔علاج سے زینب کی رسولی گھٹنا شروع ہو گئی ہے لیکن آگے چل کر ہڈی کے گودے کے ٹرانسپلانٹ کی بھی ضرورت پڑے گی۔

راحیل نے کہامیری بیٹی کی زندگی کا انحصار خون پر ہے، عطیہ کنندگان زبردست کام کر رہے ہیں اور میں اسے کبھی نہیں بھول پائوں گا۔واضح رہے کہ تمام خون کے گروپ انگریزی حروف تہجی اے، بی، اے بی اور او کے نام سے جانے جاتے ہیں لیکن یہ گروپ انڈیا کی مغربی ریاست مہاراشٹر کے دارالحکومت بمبئی یا بامبے (فی الحال ممبئی) کے نام سے جانا جاتا ہے ۔ ڈاکٹر وائي ایم بھینڈے نے 1952 میں اسے دریافت کیا تھا۔اب بھی اس گروپ کے زیادہ تر لوگ ممبئی میں پائے جاتے ہیں۔ اس کی وجہ اس کا نسل در نسل منتقل ہونا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



اینڈ آف مسلم ورلڈ


ہمیں ایران امریکا جنگ کے نتیجے کو سمجھنے کے لیے…

عربوں کا کیا قصورہے؟

ایف 35 دنیا کا مضبوط اور مہلک ترین فائٹر جیٹ ہے‘…

اختتام کا آغاز

’’ہمارے پاس صرف 35 سال ہیں‘ ہم ان میں جتنا جی…

امانت خان شیرازی

بادشاہ اس وقت برہان پور میں تھا‘ مغل دور میں…

ہائوس آف شریف

جنرل غلام جیلانی نے جنرل ضیاء الحق کو آرمی چیف…

نواز شریف کی سیاست میں انٹری

لارنس گارڈن کے کرکٹ گرائونڈ میں میچ چل رہا تھا‘…

چوہے کھانا بند کریں

ہندوستان کا کوئی شہزادہ مہاتما بودھ کے پاس گیا…

رعونت پر بکھری ہوئی خاک

کراچی میں وسیم انصاری نام کا ایک چھوٹا سا سٹیج…

وہ واقعہ جو کتاب میں نہیں

1999ء میں دو وزیراعظم ہانگ کانگ میں ایک ہی ہوٹل…

بخاریؒ کو امام بنانے والے لوگ

نویں صدی کا شہر بخاراتھا اور اس شہر میں ایک سادہ…

شوگر کے مریضوں کے لیے

گرو زاہد سے میرا رابطہ ایک ویڈیو کلپ سے ہوا تھا‘…