منگل‬‮ ، 20 جنوری‬‮ 2026 

نومولود بچوں کے بالوں کا خیال کس طرح رکھا جائے؟

datetime 20  ‬‮نومبر‬‮  2018 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک) نومولود بچوں کے بال ریشم کی طرح ملائم اور نہایت نفیس ہوتے ہیں اور یہ بہت ہی قیمتی ہوتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ان نازک بالوں کو چھونے کا بار بار دل چاہتا ہے۔ وقت کے ساتھ ساتھ یہ بال بڑھے ہوتے رہتے ہیں جس کے بعد یہ سوال ذہن میں آتا ہے

کہ ان کا خیال کس طرح رکھا جائے؟ کیا بالکل اسی طرح جس طرح بالغین اپنے بالوں کا خیال رکھتے ہیں؟ کیا ان کے بالوں کے مسائل ویسے ہی ہوتے ہیں جیسے بڑی عمر کے افراد کے ہوتے ہیں؟ ہمیں اپنے پیارے بچوں کے بالوں کا گہرائی کے ساتھ جائزہ لینا ہوگا۔ ماہرین کے مطابق بچے کے بال ماں کے پیٹ میں 6 ماہ کی عمر سے ہی نکلنا شروع ہوجاتے ہیں۔ جب بچہ پیدا ہوتا ہے تب بالوں کو کھو دیتا ہے اور اس کی جگہ نئے اور مضبوط بال نکل آتے ہیں۔ چاہے بچہ گنجا ہو یا بالوں کا مالک، ہمیں دونوں صورتوں میں ہی بچے کے بالوں کا خیال رکھنا چاہیے۔ بچے کی پیدائش کے بعد ایک ماہ تک ہفتے میں 2 بار بڑی نفاست کے ساتھ بچے کے بالوں کو دھوئیں۔ اگر بچے کو کریڈل کیپ (کریڈل کیپ نومولود کے سر کی جلد پر نظر آنے والے پیلے بھورے چكتتو یا نشانوں کو کہا جاتا ہے) یعنی ڈینڈرف، تو پھر سر کو بار بار دھونا بہتر ہے۔ نازک بالوں کے لیے بیبی شیمپو کا انتخاب ہی بہتر ہے۔ مارکیٹ میں کئی اقسام کے بیبی شیمپو موجود ہیں، یہ شیمپو بچے کی حساس جلد کو نقصان نہیں پہنچاتے اور نہ ہی بچے کی آنکھوں میں آنسو کا سبب بنتے ہیں۔ دوسری جانب بڑی عمر کے افراد کے شیمپو میں مختلف کیمیکلز شامل ہوتے ہیں جن سے نہ صرف بچے کی نازک جلد بلکہ بچے کے بال بھی متاثر ہوسکتے ہیں۔ بچوں کے بالوں کو نفیس مالش، توجہ اور پیار کی ضرورت ہوتی ہے۔ بچے کے بال دھونے اور خشک کرنے کے بعد الجھے بالوں کو سلجھانا ہوتا ہے۔ اس کام کے لیے نرم اور ملائم برش یا پیڈل برش کا انتخاب کریں۔ بچے کو روتا نہیں دیکھنا چاہتے تو برش سے بالوں کو کنارے سے لے کر اوپر تک لے جاکر سیدھا کریں۔ اگر بالوں کی الجھن تھوڑی ضدی ہو تو اپنی انگلیوں کی مدد سے بالوں کو سہلا کر ٹھیک کرنے کی کوشش کریں۔

موضوعات:



کالم



تہران میں کیا دیکھا


ہمارا گروپ 25 دسمبر 2025ء کو تہران پہنچا‘ اسلام…

چھوٹی چھوٹی نیکیاں اور بڑے معجزے

اسلام آباد کا بائیس سالہ طالب علم طلحہ ظہور…

ونڈر بوائے

یہ بنیادی طور پر تین پاشائوں کی کہانی ہے‘ طلعت…

سہیل آفریدی کا آخری جلسہ

وہ جنرل کے سامنے بیٹھا‘ تھوڑی دیر دائیں بائیں…

ذورین نظامانی غلط نہیں کہہ رہا

والد صاحب نے مجھے پکڑ لیا‘ ان کے ہاتھ میں جوتا…

پرسی پولس

شیراز ریجن کا اصل کمال پرسی پولس (Persepolis) ہے‘ یہ…

سائرس یا ذوالقرنین

میرے سامنے پتھروں کی مستطیل عمارت تھی‘ فرش کے…

ایک دن ذوالقرنین کے مقبرے پر

میدان کی پچھلی جانب پہاڑ تھے‘ ان پر تازہ برف…

کام یابی کے دو فارمولے

کمرہ صحافیوں سے بھرا ہوا تھا‘ دنیا جہاں کا میڈیا…

وزیراعظم بھینسیں بھی رکھ لیں

جمشید رتن ٹاٹا بھارت کے سب سے بڑے کاروباری گروپ…

جہانگیری کی جعلی ڈگری

میرے پاس چند دن قبل ایک نوجوان آیا‘ وہ الیکٹریکل…