بدھ‬‮ ، 16 ستمبر‬‮ 2026 

ہونٹوں کے پھٹنے کے پیچھے یہ مسئلہ تو نہیں چھپا ہوا؟

datetime 7  ‬‮نومبر‬‮  2018 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)  لگ بھگ ہر ایک کو ہی زندگی میں کبھی نہ کبھی ہونٹ پھٹنے کے مسئلے کا سامنا ہوتا ہے، کچھ کو معمولی خشکی کا سامنا ہوتا ہے جبکہ کچھ کے لیے یہ زیادہ بڑا ہوتا ہے یعنی بہت زیادہ خشک، زرد اور خون بھی نکلنے لگتا ہے۔ ہر عمر کے افراد کو اس مسئلے کا سامنا ہوسکتا ہے اور یہ صرف عدم اطمینان کا ہی باعث نہیں بنتا بلکہ انتہائی تکلیف دہ بھی ہوتا ہے۔

مگر اکثر ایسا ہونا اس بات کی علامت ہوتا ہے کہ جلد کی سطح کے اندر کچھ زیادہ سنگین مسئلہ پیدا ہورہا ہے۔ منہ میں چھالے کیوں ہوتے ہیں عام طور پر لوگ اسے سرد موسم یا خشک ہوا کا نتیجہ سمجھتے ہیں مگر اس کی چند دیگر وجوہات بھی ہوتی ہیں۔ ویسے اکثر یہ فکرمند ہونے کی وجہ نہیں ہوتی بلکہ عام طور پر موسم اس کی بڑی وجہ ہوتا ہے مگر چند دیگر وجوہات درج ذیل ہیں۔ پانی کی کمی مایو کلینک کے مطابق ڈی ہائیڈریشن کے نتیجے میں جسم میں پانی کی کمی کے باعث وہ عام افعال سرانجام نہیں دے پاتا، اگر پانی کی کمی دور نہ کی جائے تو ڈی ہائیڈریشن کا مسئلہ ہوتا ہے، ایسا ہونے پر جسم جلد سے پانی کھینچتا ہے اور اسے خشک کردیتا ہے۔ عام طور پر جلد خشک ہونے پر سب سے زیادہ ہونٹ ہی متاثر ہوتے ہیں اور وہ پھٹ جاتے ہیں یا زرد پڑجاتے ہیں۔ ہونٹ کاٹنا یا چوسنا اکثر افراد ہونٹ خشک ہونے پر اسے منہ کے اندر لے کر چوسنے لگتے ہیں جو کہ بہت بڑی غلطی ہے۔ لعاب دہن ہونٹ سے اڑ جاتا ہے جس کے نتیجے میں نمی زیادہ کم ہونے لگتی ہے۔ اسی طرح تھوک میں موجود کیمیکل ہونٹ کو خشک کرتا ہے جس کے نتیجے میں وہ زیادہ خشک، خارش کے شکار ہوجاتے ہیں۔ وٹامن اے کا بہت زیادہ استعمال مردوں کے لیے وٹامن اے کی روزانہ تجویز کردہ مقدار 900 مائیکرو گرام جبکہ خواتین کے لیے 700 مائیکرو گرام ہے، اگر بہت زیادہ وٹامن اے کا استعمال کیا جائے تو اس سے ہونٹ پھٹنے، جلد کی خارش سمیت متعدد طبی مسائل لاحق ہوسکتے ہیں۔ مخصوص اشیاء سے الرجی بیشتر افراد کے ہونٹوں کی جلد کافی حساس ہوتی ہے، اگر لپ اسٹک، میک اپ، ٹوتھ پیسٹ یا دیگر جلدی نگہداشت کی مصنوعات سے الرجی ہو تو ہونٹوں پر خارش کا مسئلہ پیدا ہوسکتا ہے جبکہ وہ پھٹ بھی جاتے ہیں۔ کچھ غذاﺅں سے الرجی کی شکل میں بھی یہی مسئلہ

لاحق ہوسکتا ہے۔ کسی وٹامن کی کمی وٹامن بی 2 جو عام طور پر دودھ، پالک، دہی اور گوشت وغیرہ میں پایا جاتا ہے، جس کی جسم میں کمی ہوجائے تو ہونٹ پھٹ جاتے ہیں یا ان کے کونوں پر زخم پیدا ہوجاتے ہیں۔ کھٹی چیزیں ترش پھلوں یا اشیاءمیں موجود ایسڈ منہ اور ہونٹوں پر خارش کا باعث بن سکتے ہیں، اگر آپ کے ہونٹ پہلے ہی

پھٹ چکے ہوں یا خشک ہو، تو ایسے پھلوں اور سبزیوں کو کھانا تکلیف دہ ثابت ہوسکتا ہے۔ نجات کیسے ممکن؟ پھٹے ہوئے ہونٹوں کے علاج کا بہترین ذریعہ مناسب مقدار میں پانی پینا اور ہونٹوں کی نمی لپ بام کی مدد سے برقرار رکھنا ہے۔ اگر پھر بھی مسئلہ زیادہ بڑھ جائے تو ڈاکٹر سے رجوع کرکے اس کے پیچھے چھپی وجہ جاننے کی کوشش کریں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



صرف ایک شخص کے لیے


کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…