بدھ‬‮ ، 16 ستمبر‬‮ 2026 

بچوں کی صحت کیلئے فکر مند والدین آج سے ہی یہ کام کرنا شروع کردیں،کینیڈا میں ہونیوالی تحقیق کے بعد ماہرین کا مشورہ

datetime 3  ‬‮نومبر‬‮  2018 |

کینیڈا (این این آئی) ایک حالیہ مطالعے میں انکشاف ہوا ہے کہ اپنے والدین کے ساتھ کھانا کھانے والے بچے دیگر بچوں کے مقابلے میں زیادہ صحت مند رہتے ہیں اور ان کی دماغی صلاحیتیں بھی بہتر ہوتی ہیں۔کینیڈا میں بچوں کی نفسیات کے ماہرین نے 5 ماہ سے 10 سال تک کی عمر کے بچوں کا جائزہ لینے کے بعد اس بات کا انکشاف کیا ہے کہ باقاعدگی سے والدین کے ساتھ دسترخوان پر بیٹھنے والے بچوں کے جسم و دماغ پر

اس کے اچھے اثرات مرتب ہوتے ہیں، خاص طور پر دس سال کے بچے اگر والدین کے ساتھ کھانا کھائیں تو وہ اچھی طرح کھانا کھاتے ہیں اور مضر مشروبات مثلا سافٹ ڈرنکس کی جانب کم متوجہ ہوتے ہیں۔اس سروے کے بعد کینیڈا کے ماہرین نے کہا ہے کہ والدین اپنے بچوں کو ساتھ بٹھا کر کھانا کھانے کے عمل کو بچوں کی زندگی میں سرمایہ کاری تصور کریں، اس کی وجہ یہ ہے کہ کھاتے وقت خوشیوں پر مبنی باتیں ہوتی ہیں اور بچے والدین سے جذباتی طور پر قریب ہوجاتے ہیں۔یونیورسٹی آف مانٹریال میں نفسیات کی پروفیسر لنڈا پاگانی نے کہا ہے کہ بچوں کے ساتھ بیٹھ کر کھانے کا یہ عمل کئی طرح سے مفید ہے۔ بچے اس دوران اپنی بات اور مقف کا مثبت اظہار سیکھتے ہیں اور یوں وہ باقی دنیا سے اچھے انداز میں بات کرنا سیکھتے ہیں۔ پروفیسر لِنڈا نے 1997 اور 1998 کے درمیان کینیڈا کے شہر کیوبیک میں پیدا ہونے والے بچوں کا سروے کیا ہے اور اسے ایک طویل عرصے تک جاری رکھا گیا۔اس مطالعے کو کیوبیک لونگی ٹیوڈینل اسٹڈی آف چائلڈ ڈیویلپمنٹ کا نام دیا گیا جس میں والدین سے پوچھا گیا کہ جب ان کا بچہ 6 برس کا ہوجائے تو وہ یہ بتانا شروع کریں کہ وہ اس کے ساتھ کھارہے ہیں یا نہیں۔ اس کے بعد 10 سال کی عمر تک پہنچنے پر والدین اور اساتذہ سے بچے کی ذہانت، پڑھنے کی صلاحیت اور نفسیاتی کیفیات کے بارے میں رپورٹ کرنے کے لئے کہا گیا۔ماہرین نے کہا ہے کہ بچے اگر 6 سال کی عمر سے والدین

کے ساتھ بیٹھیں اور کھانا کھائیں تو اس کے مثبت اثرات مرتب ہونا شروع ہوجاتے ہیں۔ 10 سال تک یہ بچے والدین سے الگ تھلگ رہ کر کھانے والے بچوں کے مقابلے میں قدرے چاق و چوبند اور صحت مند رہتے ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



صرف ایک شخص کے لیے


کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…