مشروب کے گلاس پر لگا لیموں کا ٹکڑا جراثیم کی آماجگاہ

  جمعرات‬‮ 1 ‬‮نومبر‬‮ 2018  |  16:30

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک) جب بھی آپ باہر کھانا کھانے جاتے ہیں تو آپ کس چیز کو مدنظر رکھتے ہیں؟ ریستوران کے اچھے ماحول کو اور اس سے بھی زیادہ وہاں کے صاف ستھرے پکوانوں کو جنہیں حفظان صحت کے اصولوں کے مطابق تیار کیا جاتا ہے۔ لیکن کیا آپ جانتے ہیں کہ ان ریستورانوں میں کچھ مشروبات ایسے بھی ہیں جنہیں چاہے کتنی ہی صفائی سے بنایا جائے۔ان میں ہر اقسام کے جراثیم موجود ہونے کے امکانات موجود ہوتے ہیں۔ وہ مشروب چاہے سادہ پانی کے گلاس کا ہی کیوں نہ ہو، اگر اس پر سجاوٹ کے لیے لیموں کا


ٹکڑا لگایا گیا ہے تو وہ مشروب لازماً جراثیم سے بھرپور ہوگا۔ ماہرین نے اس کے لیے 100 کے قریب ریستورانوں میں لیموں کی سجاوٹ اور بغیر سجاوٹ والے مشروبات کا جائزہ لیا تو انہوں نے 70 فیصد لیموں کے ٹکڑوں کو جراثیم سے آلودہ پایا۔ ماہرین کے مطابق دنیا کے بہترین سے بہترین ریستوران کی انتظامیہ بھی گو کہ اپنے کچن میں صفائی کا خاص خیال رکھتی ہے، تاہم وہ لیموں کو اس سجاوٹ کے لیے پیش کرنے کے لیے پہلے سے کاٹ کر رکھ دیتے ہیں۔ لیموں حیرت انگیز فوائد کا حامل پھل حالانکہ ان ٹکڑوں کو حفظان صحت کے اصولوں کے مطابق محفوظ کیا جاتا ہے، تاہم ماہرین کے مطابق ایک بار پھل کٹ گیا تو اسے محفوظ کرنا اس پر جراثیم کی افزائش کرنے کے مترادف ہوتا ہے اور اسے جلد سے جلد استعمال کرلینا بہتر ہوتا ہے۔ چنانچہ اب آپ جب بھی کسی ریستوران میں جائیں تو ویٹر کو ہدایت کردیں کہ آپ کے مشروب کے گلاس پر لیموں کا ٹکڑا نہ لگایا جائے۔


موضوعات:

زیرو پوائنٹ

استنبول یا دہلی ماڈل

میاں نواز شریف کے پاس دو آپشن ہیں‘ استنبول یا دہلی‘ ہم ان آپشنز کو ترکی یا انڈین ماڈل بھی کہہ سکتے ہیں۔ہم پہلے ترکی ماڈل کی طرف آتے ہیں‘ رجب طیب اردگان 1954ء میں استنبول میں قاسم پاشا کے علاقے میں پیدا ہوئے‘ غریب گھرانے سے تعلق رکھتے تھے‘ سکول سے واپسی پر گلیوں میں شربت بیچتے تھے‘بڑی مشکل ....مزید پڑھئے‎

میاں نواز شریف کے پاس دو آپشن ہیں‘ استنبول یا دہلی‘ ہم ان آپشنز کو ترکی یا انڈین ماڈل بھی کہہ سکتے ہیں۔ہم پہلے ترکی ماڈل کی طرف آتے ہیں‘ رجب طیب اردگان 1954ء میں استنبول میں قاسم پاشا کے علاقے میں پیدا ہوئے‘ غریب گھرانے سے تعلق رکھتے تھے‘ سکول سے واپسی پر گلیوں میں شربت بیچتے تھے‘بڑی مشکل ....مزید پڑھئے‎