منگل‬‮ ، 11 مارچ‬‮ 2025 

کتے اب ڈاکٹرز کے معاون، بیماریوں کی تشخیص کریں گے

datetime 30  اکتوبر‬‮  2018
ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

برطانیہ (مانیٹرنگ ڈیسک) اگرچہ دنیا بھر میں اس وقت بھی کتوں کو جاسوسی سمیت کئی اہم کاموں کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔ تاہم برطانوی سائنسدانوں کا خیال ہے کہ کتوں کے ذریعے جاسوسی کے علاوہ جان لیوا مرضوں کی تشخیص بھی کرائی جا سکتی ہے۔ ہاں، برطانوی سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ کتے نہ صرف کینسر اور ذیابیطس کے چند اقسام کی تشخیص کر سکتے ہیں۔

بلکہ کتے ملیریا جیسی جان لیوا بیماری کی تشخیص بھی آسانی سے کر سکتے ہیں۔ جی ہاں برطانیہ کی ’درہم یونیورسٹی’ کے سائنسدانوں نے ملیریا کی تشخیص کے لیے کتوں سے متعلق کام کرنے والے ایک سماجی ادارے کی مدد سے کتوں کی تربیت کی۔ سائنسدانوں نے ’میڈیکل ڈٹیکشن ڈاگز آرگنائیزیشن’ کی مدد سے کتوں کی تربیت کی ہے، جو بو سونگھنے کی اپنی خصوصی صلاحیت کو استعمال کرکے ملیریا کی تشخیص کریں گے۔ اس ادارے کے کتے نہ صرف ملیریا بلکہ کئی طرح کی بیماریوں کی تشخیص بھی کرتے ہیں، جنہیں پہلے تربیت دی گئی تھی۔ ملیریا کی تشخیص کے لیے کتوں کی تربیت کرنے والے سائنسدانوں کے مطابق جس طرح کتے منشیات، بم اور ہتھیار سمیت دیگر چیزوں کی تلاش کا کام کرتے ہیں، اسی طرح ان میں انسان کے کپڑے اور جسم کی بو سونگھ کر ان میں بیماریوں کا پتہ لگانے کی اہلیت بھی موجود ہے۔ سی این این نے اپنی رپورٹ میں بتایا کہ کتوں کی تربیت کرنے والے ماہرین نے تجربے کے لیے افریقی ملک گیمبیا کے 600 بچوں کے جرابے اکٹھے کیے، جنہیں بعد ازاں تربیت لینے والے کتوں کو دیا گیا۔ رپورٹ کے مطابق جن بچوں کے جرابے حاصل کیے گئے تھے، ان کی عمریں 5 سے 13 سال کے درمیان تھیں اور کتوں نے ان کی بو سونگھ کر ان میں ملیریا سے متاثرہ بچوں کے جرابوں کو الگ کیا۔ نتائج سے پتہ چلا کہ کتوں نے 175 بچوں کے جرابوں سے 30 بچوں کے جرابے الگ کیے۔

جن میں ملیریا کی تشخیص ہوئی۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ کتوں میں جرابے اور انسانی کپڑوں کی بو سونگھ کر ملیریا کا پتہ لگانے کی اہلیت 70 فیصد درست پائی گئی۔ ماہرین نے امید ظاہر کی کہ اگر کتوں کو ایسی بیماریوں کی تشخیص کے لیے چند ماہ کی تربیت دی جائے تو وہ ایسی بیماریوں کا فوری طور پر پتہ لگانے میں ڈاکٹرز کی مدد کرسکتے ہیں۔ خیال رہے کہ ملیریا کے باعث

ہر سال دنیا میں لاکھوں افراد ہلاک ہوجاتے ہیں، عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) آج تک ملیریا سے بچاؤ کی ویکسین تیار نہیں کرسکی، تاہم اگر اس کی شناخت جلد ہوجائے تو مختلف دوائیوں کے ذریعے اس کا علاج ممکن ہے۔ 2016 میں دنیا بھر میں ملیریا سے سوا 2 کروڑ سے زائد افراد متاثر ہوئے، جب کہ اسی سال 4 لاکھ 45 ہزار انسان ملیریا کے باعث ہلاک بھی ہوئے۔

موضوعات:

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



ہم سیاحت کیسے بڑھا سکتے ہیں؟


میرے پاس چند دن قبل ازبکستان کے سفیر اپنے سٹاف…

تیسری عالمی جنگ تیار(دوسرا حصہ)

ولادی میر زیلنسکی کی بدتمیزی کی دوسری وجہ اس…

تیسری عالمی جنگ تیار

سرونٹ آف دی پیپل کا پہلا سیزن 2015ء میں یوکرائن…

آپ کی تھوڑی سی مہربانی

اسٹیوجابز کے نام سے آپ واقف ہیں ‘ دنیا میں جہاں…

وزیراعظم

میں نے زندگی میں اس سے مہنگا کپڑا نہیں دیکھا تھا‘…

نارمل ملک

حکیم بابر میرے پرانے دوست ہیں‘ میرے ایک بزرگ…

وہ بے چاری بھوک سے مر گئی

آپ اگر اسلام آباد لاہور موٹروے سے چکوال انٹرچینج…

ازبکستان (مجموعی طور پر)

ازبکستان کے لوگ معاشی لحاظ سے غریب ہیں‘ کرنسی…

بخارا کا آدھا چاند

رات بارہ بجے بخارا کے آسمان پر آدھا چاند ٹنکا…

سمرقند

ازبکستان کے پاس اگر کچھ نہ ہوتا تو بھی اس کی شہرت‘…

ایک بار پھر ازبکستان میں

تاشقند سے میرا پہلا تعارف پاکستانی تاریخ کی کتابوں…