پیر‬‮ ، 19 جنوری‬‮ 2026 

تھرمیں مزید دو بچے دم توڑ گئے، رواں ماہ تعداد 54 ہوگئی

datetime 13  اکتوبر‬‮  2018 |

مٹھی(مانیٹرنگ ڈیسک) تھر پارکر میں آج مزید دو بچے بھوک اور بیماری کے سبب دم توڑگئے، رواں ماہ تھر میں جاں بحق ہونے والے بچوں کی تعداد54 ہوچکی ہے۔ مٹھی اسپتال ذرائع کے مطابق رواں سال مٹھی اسپتال میں علاج کی غرض سے لائےگئے518بچےانتقال کرچکےہیں۔

جبکہ اسپتال میں اس وقت بھی 80 بچے زیرعلاج ہیں۔ چیف جسٹس آف پاکستان نے تھر کی صورت حال پر نوٹس لیتے ہوئے کہا تھا کہ اب ایک بھی بچہ غذائی قلت سے نہیں مرنا چاہیے۔ وہ کل تھر کا دورہ بھی کریں گے۔ دوسری جانب سندھ حکومت کا کہنا ہے کہ تھر کے مسئلے کے حل کے لیے جلد ہی پیکج کا اعلان کریں گے ، چیف جسٹس نے جب پیکج کی تاریخ کے بارے استفار کیا تھا تو اے جی سندھ نے کہا تھا کہ آئندہ 15 روز میں تھر امدادی کارروائیاں شروع ہوجائیں گی۔ ایڈوکیٹ جنرل سندھ نے عدالت کے روبرو یہ بھی کہا تھا کہ تھر میں صرف گندم فراہم کرنا مسئلے کا حل نہیں، تھر سے متعلق ہم نے پیکیج بنایا ہے۔ پیکیج میں گندم، چاول، چینی، کوکنگ آئل اور دالیں شامل ہیں۔انہوں نے یہ بھی بتایا کہ کہ تھر میں 60 ہزار سے زائد افراد خط غربت سے نیچے ہیں، غریب افراد دو ردراز علاقوں میں پھیلے ہوئے ہیں۔ ایسا انتظام کر رہے ہیں جہاں علاج اور خوراک کی سہولت یکجا ہو۔ دوسری جانب پیپلز پارٹی کی رہنما کرشنا کماری کا اس موضوع پر کہنا تھا کہ جنہوں نے تھر دیکھا تک نہیں وہ تجزیے کر رہے ہیں، پیپلز پارٹی اور سندھ حکومت کی ترجیح تھر کی ترقی ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ تھر والوں کو گزشتہ چھ سال سے وفاقی حکومت کی جانب سے کچھ بھی نہیں دیا گیا۔ ان کا کہنا تھا کہ آصف زرداری اور بلاول بھٹو تھر کی ترقی کے لیے کام کررہے ہیں، یہاں غربت اور کم عمری میں شادی کی روایت کے سبب یہ مسائل پیش آتے ہیں۔

موضوعات:



کالم



تہران میں کیا دیکھا


ہمارا گروپ 25 دسمبر 2025ء کو تہران پہنچا‘ اسلام…

چھوٹی چھوٹی نیکیاں اور بڑے معجزے

اسلام آباد کا بائیس سالہ طالب علم طلحہ ظہور…

ونڈر بوائے

یہ بنیادی طور پر تین پاشائوں کی کہانی ہے‘ طلعت…

سہیل آفریدی کا آخری جلسہ

وہ جنرل کے سامنے بیٹھا‘ تھوڑی دیر دائیں بائیں…

ذورین نظامانی غلط نہیں کہہ رہا

والد صاحب نے مجھے پکڑ لیا‘ ان کے ہاتھ میں جوتا…

پرسی پولس

شیراز ریجن کا اصل کمال پرسی پولس (Persepolis) ہے‘ یہ…

سائرس یا ذوالقرنین

میرے سامنے پتھروں کی مستطیل عمارت تھی‘ فرش کے…

ایک دن ذوالقرنین کے مقبرے پر

میدان کی پچھلی جانب پہاڑ تھے‘ ان پر تازہ برف…

کام یابی کے دو فارمولے

کمرہ صحافیوں سے بھرا ہوا تھا‘ دنیا جہاں کا میڈیا…

وزیراعظم بھینسیں بھی رکھ لیں

جمشید رتن ٹاٹا بھارت کے سب سے بڑے کاروباری گروپ…

جہانگیری کی جعلی ڈگری

میرے پاس چند دن قبل ایک نوجوان آیا‘ وہ الیکٹریکل…