پیر‬‮ ، 19 جنوری‬‮ 2026 

نابینا خواتین بھی بریسٹ کینسر کی تشخیص کرسکتی ہیں

datetime 12  اکتوبر‬‮  2018 |

بھارت(مانیٹرنگ ڈیسک) بھارت میں بریسٹ کینسر کی تشخیص کے لیے اہم اقدام کیا گیا ہے جس میں بینائی سے محروم خواتین کو سکھایا گیا ہے کہ کس طرح ابتدائی مرحلے میں ہی بریسٹ کینسر کی تشخیص کی جاسکتی ہے۔ بھارتی اخبار ہندوستان ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق بھارت کی قومی ایسوسی ایشن نابینا افراد (نیب) کے ادارہ برائے معذور اور نابینا خواتین کی تعلیم نے جرمنی

کے ڈسکورنگ ہینڈز سے مل کر ’ڈسکورنگ ہینڈز‘ کے نام سے مہم کا آغاز کیا۔ ڈائریکٹر نیب شالنی کھنہ کا کہنا تھا کہ جرمنی کے ادارے نے ہم سے 2015 میں رابطہ کرکے اپنے پروگرام کے بارے میں اطلاع دی تھی کہ کس طرح بریسٹ کینسر کی ابتدائی نشانیوں کی خود سے تشخیص کی جاسکتی ہے‘۔پانچ منٹ میں بریسٹ کینسر کی تشخیص ممکن انہوں نے بتایا کہ ہم نے جرمنی میں ادارے کا دورہ کرکے اس بات کی جانچ کی کہ یہ کیسے ممکن ہے جس کے بعد ہمیں معلوم ہوا کہ بینائی سے محروم خواتین بھی یہ کام انجام دے سکتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بھارت میں بریسٹ کے بارے میں زیادہ بات نہیں کی جاتی ہے تاہم ہم نے 18 سال سے زائد عمر کی چند خواتین کو چنا جنہیں ہم نے 9 مہینوں تک بریسٹ کینسر کی تشخیص کا عمل سکھایا۔ اس پروگرام کے ہسپتالوں میں آغاز فورٹس ہسپتال کے سرجیکل اونکولوجی کے سربراہ ڈاکٹر مندیپ سنگھ ملہوترہ کی جانب سے کیا گیا۔ بریسٹ کینسر کی تشخیص کرنے والی نابینا خاتون شویتا ورما نے بتایا کہ ان کے اہل خانہ ان کی بینائی سے محروم ہونے کی وجہ سے انہیں گھر میں رکھنا چاہتے تھے تاہم ان کا کہنا تھا کہ ’مجھے آج خوشی ہے کہ اس پروگرام کی بدولت دہلی کے ہسپتال میں نوکری ملی‘۔ ان کا کہنا تھا کہ ’میں تمام نابینا افراد کے والدین کو کہنا چاہوں گی کہ وہ اپنے بچوں کو نظر انداز نہ کریں بلکہ ان کے ساتھ تعاون کریں، وہ آپ کا سر فخر سے بلند کریں گے‘۔

موضوعات:



کالم



تہران میں کیا دیکھا


ہمارا گروپ 25 دسمبر 2025ء کو تہران پہنچا‘ اسلام…

چھوٹی چھوٹی نیکیاں اور بڑے معجزے

اسلام آباد کا بائیس سالہ طالب علم طلحہ ظہور…

ونڈر بوائے

یہ بنیادی طور پر تین پاشائوں کی کہانی ہے‘ طلعت…

سہیل آفریدی کا آخری جلسہ

وہ جنرل کے سامنے بیٹھا‘ تھوڑی دیر دائیں بائیں…

ذورین نظامانی غلط نہیں کہہ رہا

والد صاحب نے مجھے پکڑ لیا‘ ان کے ہاتھ میں جوتا…

پرسی پولس

شیراز ریجن کا اصل کمال پرسی پولس (Persepolis) ہے‘ یہ…

سائرس یا ذوالقرنین

میرے سامنے پتھروں کی مستطیل عمارت تھی‘ فرش کے…

ایک دن ذوالقرنین کے مقبرے پر

میدان کی پچھلی جانب پہاڑ تھے‘ ان پر تازہ برف…

کام یابی کے دو فارمولے

کمرہ صحافیوں سے بھرا ہوا تھا‘ دنیا جہاں کا میڈیا…

وزیراعظم بھینسیں بھی رکھ لیں

جمشید رتن ٹاٹا بھارت کے سب سے بڑے کاروباری گروپ…

جہانگیری کی جعلی ڈگری

میرے پاس چند دن قبل ایک نوجوان آیا‘ وہ الیکٹریکل…