اتوار‬‮ ، 02 اگست‬‮ 2026 

مارکیٹ میں دو نمبر چاولوں کی بھرمار،آپ آج کل جو چاول کھا رہے ہیں وہ نقلی ہیں یا اصلی؟جانئے چیک کرنے کا آسان طریقہ

datetime 5  اکتوبر‬‮  2018 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)مارکیٹ میں اس وقت ہر دو نمبر چیز دستیاب ہے ۔ آپ کو حیرانی ہوگی کہ آج کل چاول میں بھی ہیرا پھیری کی جارہی ہے ۔یہ مصنوعی چاول دیکھنے میں سو فیصد اصلی چاولوں جیسے نظر آتے ہیں لیکن ان کا بنیادی جزو پلاسٹک ہے جس کی وجہ سے یہ انسانی صحت کے لئے سخت نقصان دہ قرار دئیے گئے ہیں ۔ ابتدائی طور پر پتہ چلا کہ یہ مصنوعی چاول انڈونیشیا، سری لنکا اور سنگاپور جیسے ممالک میں بیچے جارہے ہیں۔

لیکن بعدازاں جنوبی ایشیاءکے ممالک میں ان کی آمد کا شور بھی بلند ہوگیا۔ اب تو واقعی ہر کوئی اس پریشانی میں مبتلا ہے کہ کہیں وہ پلاسٹک کے بنے مصنوعی چاول تو نہیں کھارہا۔ماہرین صحت کے مطابق  یہ مصنوعی چاول آلو اور شکرقندی سے حاصل کردہ اجزاءکو پلاسٹک کے ساتھ ملا کر بنائے جاتے ہیں۔ ان اجزاءکے استعمال کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ یہ چاول دیکھنے میں حقیقی نظر آتے ہیں اور ان کا ذائقہ بھی اصلی چاولوں جیسا ہوتا ہے۔ ان میں شامل مصنوعی خوشبو کے باعث کھانے والوں کو اندازہ ہی نہیں ہوتا کہ وہ مصنوعی چاول کھارہے ہیں۔عین ممکن ہے کہ آپ بھی جو چاول کھا رہے ہیں وہ پلاسٹک سے بنے ہوں، تو آپ کو ضرور معلوم ہونا چاہئیے کہ اصلی اور نقلی چاولوں میں فرق کس طرح کیا جا سکتا ہے، آئیے ہم آپ کو کچھ تکنیک بتاتے ہیں کہ جس سے آپ اصل اور نقل چاول کی پہچان کر سکیں گے ۔ اگر آپ چاولوں کو پیس کر دیکھیں تو اصلی چاول سفید رنگ کے باریک پاﺅڈر کی شکل اختیار کرجائیں گے جبکہ نقلی چاولوں کو پیسنے پر یہ برتن پر زردی مائل رنگ چھوڑتے نظر آئیں گے۔ چاولوں کو جلا کر بھی دیکھا جاسکتا ہے کہ یہ اصلی ہیں یا نقلی۔ چاولوں کے چند دانوں کو آگ کے شعلے کے قریب کریں۔ اگر یہ فوراً آگ پکڑ کر جلنے لگیں تو پلاسٹک کے ہیں اور آگ نا پکڑیں تو اصلی ہیں۔ ایک اور بہت ہی آسان ٹیسٹ یہ ہے کہ تھوڑے سے چاول پانی کے گلاس میں ڈالیں۔ اگر یہ اصلی ہوئے تو پیندے میں بیٹھ جائیں گے اور اگر پلاسٹک کے ہوئے تو پانی کے اوپر تیرتے رہیں گے۔اس لئے آپ جب بھی چاول مارکیٹ سے خرید کر گھر لائیں اور آپ کو ان  چاولوں پر شک پڑے تو ان طریقوں پر عمل کرکے آپ اصل اور نقل چاولوں کی پہچان کرسکتے ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک


میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…

پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)

سکندراعظم پہلا حکمران تھا جس نے اپنے دور کی زیادہ…

پاکستان کا المیہ

شاہ جہاں 1626ء میں اپنے والد جہانگیر کے خلاف آخری…

سیٹی سے رزق کمانے والا انسان

بھارت میں 1975ء میں جولی کے نام سے فلم بنی ‘ اس…

وراثت

بنوں میں دو بھائی رہتے تھے‘ والد زمین دار اور…