بدھ‬‮ ، 16 ستمبر‬‮ 2026 

خبردار ہوشیار! ایسے آم مت کھائیں ورنہ آپ کو کینسر ہوسکتا ہے

datetime 14  جولائی  2018 |

ملتان(مانیٹرنگ ڈیسک)پھلوں کے راجہ آم کا موسم شروع ہونے کے ساتھ ہی کچھ تاجر انہیں مصنوعی طریقے سے پکانے کے لئے ایسے خطرناک کیمیکل کا استعمال کر رہے ہیں جو انسانی صحت کے لئے نقصان دہ ہیں۔ان کیمیکلز کے استعمال سے کچا آم چار سے چھ گھنٹے میں پک جاتا ہے اور اس کا رنگ پر کشش طریقے سے ابھرتا ہے۔

زراعت کے سائنسدانوں اور باغبانی کے ماہرین کے مطابق عام طور پر بہت سے کاروباری اتھائلن گیس، کاربائڈ اور اتھریل 39 کیمیکل کا استعمال کر کے کچے عام کو پکا تے ہیں جس کی وجہ سے اس میں اصلی ذائقہ اور مہک نہیں آ پاتی۔ ان کیمیکلز کے طویل استعمال سے جسم میں کئی قسم کی کمیاں بھی پیدا ہو سکتی ہیں۔ کیلشیم کاربائڈ پاؤ سے پکائے گئے آم مارکیٹ میں دستیاب ہیں۔یہ کیمیکل انتہائی سستا ہے اور صرف چار گھنٹے میں آم کو پکا دیتا ہے۔یہ زبردست کیمیکل نمی کے رابطے میں آنے کے ساتھ ہی اتھائلن گیس بناتا ہے جو انسان کے اعصابی نظام کو متاثر کرتا ہے۔ اس کی وجہ سے دماغ میں آکسیجن گیس کی فراہمی متاثر ہوتی ہے۔یہ زہریلی بھی ہے اور اس سے فوڈ پوائزننگ بھی ہو سکتی ہے۔ اس کے علاوہ جسم میں بہت سے دوسرے طرح کے برے اثرات بھی ہو سکتے ہیں۔ اس کیمیکل سے کچے آم کو پکانے کے لئے کسی چیمبر وغیرہ کی ضرورت نہیں ہوتی ہے۔ اگرچہ اس طرح پکے آم میں حقیقی ذائقہ اور مہک نہیں ہوتی۔ آم پکانے کے لئے رائپننگ چیمبر کا استعمال ہوتا ہے اور اس کے لئے اتھائلن کیمیکل کا استعمال کرتا ہے۔ آم قدرتی طریقے سے پکانے کے لئے چیمبر کا درجہ حرارت 18 سے 24 ڈگری کے درمیان رکھا جاتا ہے۔اس طریقہ سے پھل پکانے میں تین سے سات دن کا وقت لگتا ہے۔

زرعی ماہرین کے مطابق کیمیکل سے پکے پھل کے ضمنی اثرات کی معلومات عام لوگوں کو نہیں ہے جس کی وجہ سے ان میں بیداری پیدا کرنے کی ضرورت ہے۔ماہرین نے کہا کہ کئی بار پرکشش آم کھانے میں کھٹے ہوتے ہیں۔ ایسا کچے آم کو کیمیکلز سے پکانے کی وجہ سے ہے۔زرعی ماہرین کے مطابق کاربائڈ اور اتھریل کی زیادتی سے کینسر کے امکانات میں اضافہ ہوتا ہے۔ دونوں ہی ایک طرح کے کیمیکل ہیں ، صرف ان کے نام میں فرق ہے۔ نمی کے رابطے میں آتے ہی دونوں اتھائلن گیس بناتے ہیں ، جس سے پھل وقت سے پہلے پک جاتے ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



صرف ایک شخص کے لیے


کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…