بدھ‬‮ ، 16 ستمبر‬‮ 2026 

پاکستان بھر کے حکیموں نے چیف جسٹس سے اپیل کرتے ہوئے بڑا مطالبہ کر دیا

datetime 13  جولائی  2018 |

لاہور(نیوز ڈیسک) طب یونانی 5000 سال قدیم اور سائنٹفک اور ملک کا مقبول ترین طریقہ علاج ہے ، پوری دنیا میں بیماریوں سے محفوظ رہنے اور لاعلاج بیماریوں سے نجات کے لیے اسی طریقہ علاج کو فروغ دینے پر توجہ دی جارہی ہے لہٰذا کوالیفائیڈ معالجین کے مطب سیل کرنے کا سلسلہ فوری بند کیا جائے۔ان خیالات کا اظہار پاکستان طبی کانفرنس کے رہنماؤں پروفیسر حکیم محمد احمد سلیمی ،

پروفیسر حکیم سید فیاض ، حکیم محمد افضل میو، حکیم امجد وحید بھٹی اور حکیم احمد حسن نوری نے پاکستان طبی کانفرنس کے زیرِ اہتمام مقامی طریقہ علاج طبی یونانی کے مسائل اور ان کے حل کے حوالے سے منعقدہ مجلس مذاکرہ میں گفتگو کرتے ہوئے کیا ۔ انہوں نے چیف جسٹس آف پاکستان سے مطب سیل کرنے کے خلاف اپیل کرتے ہوئے کہا کہ یہ سلسلہ فوری بندکروایا جائے۔انہوں نے کہا کہ طب یونانی کے معاملات کے لیے ایک قومی طبی کونسل موجود ہے مگر المیہ ملاحظ ہو کہ آج تک اس کونسل کا اپنا کوئی دفتر نہیں اور تحقیق کے لیے کوئی فنڈ نہیں، کوئی نیچرل میڈیسن کو ٹیسٹ کرنے کے لیے لیبارٹری نہیں ، حالانکہ قومی ادارہ صحت (NIH) میں زمین موجود ہے اور وہ سیاسی مقاصد کے لیے بندر بانٹ کی نظر ہوتی نظر آرہی ہے – جبکہ کونسل کی بارہا درخواستوں کے باوجود طب کمپلیکس ، لیبارٹری ، طبی ہسپتال کے قیام کے لیے این آئی ایچ میں کوئی زمین دینے کوتیار نہیں اور بیورو کریسی اس ادارہ این سی ٹی کو اختیار دینے کو بھی تیار نہیں۔انہوں نے کہا کہ ملکی صنعت دواسازی کے لیے سہولتیں دی جائیں اور تمام چھوٹے اداروں کو اپ گریڈ ہونے کاموقع دیاجائے اور ان کے لیے خصوصی مراعات کا اعلان کیاجائے۔قومی طبی کونسل کے دفتر اور طب کمپلیکس؍ نیچرل میڈیسن لیبارٹری ؍طبی ہسپتال کے لیے این آئی ایچ میں فوری طور پر زمین مختص کی جائے اور اس کے لیے خصوصی گرانٹ کا اعلان کیاجائے ۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



صرف ایک شخص کے لیے


کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…