پیر‬‮ ، 19 جنوری‬‮ 2026 

شادی شدہ ہونا صحت مند دل کے لیے بھی ضروری

datetime 20  جون‬‮  2018 |

برطانیہ(مانیٹرنگ ڈیسک)  درمیانی عمر میں شریک حیات کا ساتھ امراض قلب اور فالج کا خطرہ کم کرنے میں مدد دیتا ہے۔ یہ دعویٰ برطانیہ میں ہونے والی ایک طبی تحقیق میں سامنے آیا۔رائل اسٹوک ہاسپٹل کی تحقیق میں 2 دہائیوں کے دوران 42 سے 77 سال کی عمر کے 20 لاکھ سے زائد افراد کا جائزہ لینے کے بعد نتیجہ نکالا گیا کہ شادی شدہ ہونا امراض قلب اور فالج جیسے جان لیوا امراض کا خطرہ کم کرتا ہے۔

شادی کے بعد لوگ موٹے کیوں ہونے لگتے ہیں؟ اس تحقیق کے دوران یورپ، شمالی امریکا، مشرق وسطیٰ اور ایشیا کے باسیوں کا جائزہ لینے کے بعد یہ نتیجہ نکالا گیا۔تحقیق میں بتایا گیا کہ طلاق شدہ، شریک حیات کی وفات یا کبھی شادی نہ کرنے والے افراد میں خون کی شریانوں سے منسلک امراض جیسے امراض قلب یا فالج وغیرہ کا خطرہ شادی شدہ افراد کے مقابلے میں 42 فیصد زیادہ ہوتا ہے۔اسی طرح شریک حیات سے محروم افراد میں امراض قلب سے موت کا خطرہ اپنے شادی شدہ دوستوں کے مقابلے میں 42 فیصد جبکہ فالج سے 55 فیصد زیادہ ہوتا ہے۔ شادی کے لیے بہترین عمر کونسی؟ محققین کا کہنا تھا کہ نتائج سے عندیہ ملتا ہے کہ ازدواجی حیثیت بھی شریانوں سے جڑے امراض کے حوالے سے خطرات کی پیشگوئی کے حوالے سے اہم ہے۔ محققین کا ماننا تھا کہ شریک حیات کا ساتھ مشکل وقت میں ایک دوسرے کو تحفظ فراہم کرنے میں مدد دیتا ہے۔ اس سے قبل سوئیڈن میں ہونے والی ایک تحقیق میں یہ بات بھی سامنے آچکی ہے کہ شادی شدہ جوڑوں کے مقابلے میں تنہا رہنے والوں میں دماغی تنزلی کے امراض کاخطرہ بہت زیادہ بڑھ جاتا ہے۔ تحقیق میں بتایا گیا کہ تنہا افراد میں دماغی تنزلی کی بنیادی وجہ تنہائی کا احساس اور سماجی تعاون نہ ملنا ہے، جس سے منفی ذہنی اثرات جیسے ڈپریشن اور ذہنی بے چینی وغیرہ کا امکان بڑھتا ہے۔ اس نئی تحقیق کے نتائج طبی جریدے ہارٹ میں شائع ہوئے۔

موضوعات:



کالم



چھوٹی چھوٹی نیکیاں اور بڑے معجزے


اسلام آباد کا بائیس سالہ طالب علم طلحہ ظہور…

ونڈر بوائے

یہ بنیادی طور پر تین پاشائوں کی کہانی ہے‘ طلعت…

سہیل آفریدی کا آخری جلسہ

وہ جنرل کے سامنے بیٹھا‘ تھوڑی دیر دائیں بائیں…

ذورین نظامانی غلط نہیں کہہ رہا

والد صاحب نے مجھے پکڑ لیا‘ ان کے ہاتھ میں جوتا…

پرسی پولس

شیراز ریجن کا اصل کمال پرسی پولس (Persepolis) ہے‘ یہ…

سائرس یا ذوالقرنین

میرے سامنے پتھروں کی مستطیل عمارت تھی‘ فرش کے…

ایک دن ذوالقرنین کے مقبرے پر

میدان کی پچھلی جانب پہاڑ تھے‘ ان پر تازہ برف…

کام یابی کے دو فارمولے

کمرہ صحافیوں سے بھرا ہوا تھا‘ دنیا جہاں کا میڈیا…

وزیراعظم بھینسیں بھی رکھ لیں

جمشید رتن ٹاٹا بھارت کے سب سے بڑے کاروباری گروپ…

جہانگیری کی جعلی ڈگری

میرے پاس چند دن قبل ایک نوجوان آیا‘ وہ الیکٹریکل…

تاحیات

قیدی کی حالت خراب تھی‘ کپڑے گندے‘ بدبودار اور…