بدھ‬‮ ، 16 ستمبر‬‮ 2026 

‘مصنوعی گردوں’ کی تیاری میں اہم پیشرفت

datetime 14  جون‬‮  2018 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک ) گردوں کے امراض کے دوران ڈائیلاسز کرانا مریض کے لیے زیادہ تکلیف دہ ثابت ہوتا ہے تاہم لگتا ہے کہ مستقبل میں اس سے نجات مل جائے گی۔ سائنسدان ‘مصنوعی گردے’ کی آزمائش کرنے والے ہیں جو کہ گردوں کے سنگین امراض کے شکار افراد کے لیے زندگی بچانے والا آپشن ثابت ہوگا۔ اس ڈیوائس کی آزمائش رواں سال کے آخر میں کسی وقت کی جائے گی۔

اور کامیابی کی صورت میں یہ آئندہ چند برسوں کے دوران دستیاب ہوگی، جس سے ایسے مریضوں کو بچانے میں مدد ملے گی جنھیں ڈائیلاسز یا ٹرانسپلانٹ کی ضرورت ہوگی۔ گردے فیل ہونے کی یہ علامات جانتے ہیں؟ گردے جسم کے اندر خون کے اندر موجود زہریلے مواد کے اخراج، سیال کے صحت مند توازن اور ہارمونز بنا کر بلڈ پریشر کنٹرول کرنے میں مدد دیتے ہیں۔ گردے اپنے افعال سرانجام نہ دے سکیں تو پھیپھڑوں میں خون اور پانی میں زہریلا مواد جمع ہونے لگتا ہے جس کا نتجہ جان لیوا نکلتا ہے، ابھی اس کا موثر علاج ٹرانسپلانٹ سمجھا جاتا ہے، مگر مریضوں کے مقابلے میں ڈونرز کی تعداد کم ہوتی ہے۔ اس سے ہٹ کر ڈائیلاسز ہی واحد آپشن ہے جو کہ کافی تکلیف دہ ثابت ہوتا ہے۔ اب کیلیفورنیا یونیورسٹی کے محققین نے ایسی ڈیوائس تیار کی ہے جو گردوں کے امراض کے شکار افراد کو گردے کام نہ کرنے پر سامنے آنے والے مسائل سے بچانے میں مدد دے گی۔ اس ڈیوائس کی تیاری پر گزشتہ 20 برسوں سے کام جاری تھا۔ یہ ڈیوائس خون میں مواد کو فلٹر کرنے کے ساتھ انہیں مثانے کے ذریعے خارج کرنے میں مدد دے گی۔ گردوں کے امراض سے بچنا بہت آسان اس کو ایسے میٹریل سے تیار کیا گیا جو جسم کے اندر خراب نہیں ہوتا جبکہ اسے ٹیوب کے ذریعے رگوں اور مثانے سے منسلک کیا جائے گا۔ محققین کو امید ہے کہ اس کی آزمائش آئندہ چند ماہ کے دوران انسانوں پر کی جائے گی، اب تک جانوروں میں اس کی کامیاب آزمائش ہوچکی ہے۔ محققین کے مطابق اگر یہ انسانوں کے لیے موثر ثابت ہوئی تو اسے جسم میں گردوں کے ٹرانسپلانٹ کی طرح ہی نصب کی جائے گا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



صرف ایک شخص کے لیے


کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…