پیر‬‮ ، 19 جنوری‬‮ 2026 

ڈائٹنگ کی وہ غلطیاں جو وزن کم کرنے کی راہ میں رکاوٹ کا باعث

datetime 9  جون‬‮  2018 |

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک)اگر آپ اپنا وزن کم کرنا چاہتے ہیں اور اس کے لیے بےحد محنت بھی کررہے ہیں اور اس کے باوجود آپ کو وزن کرنے میں وہ نتائج نہیں مل رہے جو آپ چاہتے ہیں تو یقیناً آپ اپنی ڈائٹنگ کے عمل میں چند غلطیاں کررہے ہوں گے۔متعدد لوگ ایسی شکایات کرتے نظر آتے ہیں کہ وہ ورزش بھی کرتے ہیں، کھانا بھی کم کھاتے ہیں لیکن اس کے باوجود وزن کم نہیں کر پارہے۔

دراصل ڈائٹنگ کا نام سن کر بہت سے لوگوں کے ذہنوں میں یہ خیال آتا ہے کہ ہمیں کھانا پینا بالکل چھوڑ دینا چاہیے، لیکن ایسا کرنے سے کبھی کبھی ہمارا وزن کم ہونے کے بجائے بڑھ بھی جاتا ہے۔یہاں ایسی چند غلطیاں بیان کی جارہی ہیں، جو لوگ ڈائٹنگ کرنے کے دوران کرتے نظر آتے ہیں، اور ان غلطیوں کی وجہ سے ان کا وزن بھی کم نہیں ہو پاتا۔1- خود کو بھوکا رکھناآپ کا ڈائٹ پلان ایسا ہونا چاہیے جس میں آپ دن میں کم از کم 5 مرتبہ کچھ نہ کچھ ایسا کھاتے رہیں جو غذائیت سے بھرپور ہو، اگر آپ وزن کم کرنے کے چکر میں خود کو بھوکا رکھیں گے تو یہی سب سے بڑی غلطی ہوگی، بھوکا رہنے کی وجہ سے آپ ایک موقع پر طلب سے زیادہ کھانا کھا سکتے ہیں اور یہی موٹا کرنے کی ایک بڑی وجہ ہے۔2- ہلکا پھلکا ناشتہ کرناناشتے کو انسانی صحت کے لیے نہایت اہم قرار دیا گیا ہے، لیکن ہم جلدی جلدی میں اس ہی اہم جز کو چھوڑ دیتے ہیں، ناشتہ نہ کرنا یا کم کرنا موٹاپے کی ایک بڑی وجہ ہے، کیوں کہ ایسا کرنے پر ہم دن بھر میں زیادہ کھانا کھانے پر مجبور ہوجاتے ہیں۔3- سبزیوں سے دوریسبزیوں میں باقی کھانوں کے مقابلے کیلوریز کی مقدار بہت کم ہوتی ہے، اس لیے اگر وزن صحیح انداز میں کم کرنا چاہتے ہیں تو اپنی ڈائٹ میں سبزیاں ضرور شامل کریں۔4- پروٹین کی کمیاپنی ڈائٹ میں پروٹین شامل نہ کرکے ہم اپنے میٹابولزم کو سست کردیتے ہیں، اور یہی وجہ ہے کہ کاربوہائیڈریٹ ہمیں موٹا بناتے ہیں ۔

 

موضوعات:



کالم



چھوٹی چھوٹی نیکیاں اور بڑے معجزے


اسلام آباد کا بائیس سالہ طالب علم طلحہ ظہور…

ونڈر بوائے

یہ بنیادی طور پر تین پاشائوں کی کہانی ہے‘ طلعت…

سہیل آفریدی کا آخری جلسہ

وہ جنرل کے سامنے بیٹھا‘ تھوڑی دیر دائیں بائیں…

ذورین نظامانی غلط نہیں کہہ رہا

والد صاحب نے مجھے پکڑ لیا‘ ان کے ہاتھ میں جوتا…

پرسی پولس

شیراز ریجن کا اصل کمال پرسی پولس (Persepolis) ہے‘ یہ…

سائرس یا ذوالقرنین

میرے سامنے پتھروں کی مستطیل عمارت تھی‘ فرش کے…

ایک دن ذوالقرنین کے مقبرے پر

میدان کی پچھلی جانب پہاڑ تھے‘ ان پر تازہ برف…

کام یابی کے دو فارمولے

کمرہ صحافیوں سے بھرا ہوا تھا‘ دنیا جہاں کا میڈیا…

وزیراعظم بھینسیں بھی رکھ لیں

جمشید رتن ٹاٹا بھارت کے سب سے بڑے کاروباری گروپ…

جہانگیری کی جعلی ڈگری

میرے پاس چند دن قبل ایک نوجوان آیا‘ وہ الیکٹریکل…

تاحیات

قیدی کی حالت خراب تھی‘ کپڑے گندے‘ بدبودار اور…