جمعہ‬‮ ، 04 اپریل‬‮ 2025 

پاکستان کی نصف آبادی موٹاپے کا شکار

datetime 9  مئی‬‮  2018
ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) حال میں ہونے والے ایک سروے کے نتائج سے پتہ چلا ہے کہ پاکستان کی نصف آبادی موٹاپے کا شکار ہے، جس وجہ سے ذیابیطس میں بھی اضافہ ہوا ہے۔ یہ اپنی نوعیت کا پاکستان میں ہونے والا پہلا مکمل سروے ہے، جس کے ذریعے نہ صرف اضافی وزن کے افراد کی تعداد معلوم ہوسکی، بلکہ یہ بھی پتہ چلا کہ موٹاپے کی وجہ سے اور کون سی بیماریاں پاکستان میں سر اٹھا رہی ہیں۔

شائع خبر کے مطابق اپنی نوعیت کے پہلے سروے کے نتائج کو پاکستان اینڈوکرائن سوسائٹی (پی ای ایس) کے تعاون سے ہونے والے پانچویں اینڈوکرائن سیمپوزیم کے دوران لاہور میں پیش کیا گیا۔ موٹاپے سے نجات میں مددگار 5 مشروبات اس دوران خطاب کرتے ہوئے حیات آباد میڈیکل کمپلیکس، پشاور کے پروفیسرڈاکٹر اے ایچ عامر کا کہنا تھا کہ سروے کے نتائج ملک میں موٹاپے سے نمٹنے کے لیے اقدامات اٹھانے کا مطالبہ کر رہے ہیں، کیوں کہ وزن بڑھنے کے باعث ہی لوگ ذیابیطس میں مبتلا ہو رہے ہیں۔ ڈاکٹر عامر کا کہنا تھا کہ عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) نے عالمی سطح اور جنوبی ایشیائی خطے کے لیے باڈی ماس انڈیکس (بی ایم آئی) کی الگ الگ گائڈ لائنز بنا رکھی ہیں۔ سروے کے نتائج سے پتہ چلتا ہے کہ 29 فیصد آبادی مقررہ مقدار سے اضافی وزن کی حامل ہے۔ سروے میں موٹاپے کے شکار افراد کو تین مختلف کیٹیگریز میں رکھا گیا ہے، جن میں سے سب زیادہ افراد یعنی 31 فیصد موٹاپے کی ابتدائی کلاس، 13 فیصد دوسری کلاس جب کہ 7 فیصد تیسری کلاس کا شکار ہیں۔ موٹاپے سے بچاﺅ کے لیے 10 بہترین غذائیں رپورٹ کے مطابق مجموعی طور پر ملک کی نصف آبادی موٹاپے کا شکار ہے۔ ڈاکٹر عامر کا کہنا تھا کہ پاکستان کے مقابلے دنیا کی 19 فیصد آبادی کم موٹاپے کا شکار ہے، یعنی عالمی سطح پر صرف 31 فیصد آبادی موٹاپے کا شکار ہے، تاہم مقررہ مقدار سے زائد وزن رکھنے والی عالمی آبادی پاکستان سے زیادہ ہے جو 35 فیصد ہے۔

انہوں نے بتایا کہ موٹاپے کے باعث ہی لوگ ذیابیطس کا شکار ہو رہے ہیں، جب کہ ذیابیطس دل کا دورہ پڑنے کا اہم سبب ہوتا ہے۔ ڈاکٹرعامر کے مطابق ذیابیطس کی وجہ ہی 50 فیصد گردوں اور اتنی ہی آنکھوں کی بیماریاں ہوتی ہیں۔ موٹاپا کم ہو تو چربی کہاں جاتی ہے؟ انہوں نے بتایا کہ قریبا ملک کی ہردسویں خاتون ذیابیطس کا شکار ہے، جسے اس کے بچاؤ کے طریقہ کار سمیت اس کے علاج تک بھی رسائی نہیں ہے، جب کہ حاملہ خواتین میں ذیابیطس ہونے کے باعث پیدا ہونے والا ہر ساتواں بچہ بھی نظام ہاضمہ کی بیماریوں کا شکار بن رہا ہے۔ ساتھ ہی انہوں نے انکشاف کیا کہ پاکستان بھر میں صرف 60 اینڈروکرنالوجسٹ موجود ہیں، جب کہ بلوچستان میں ایک بھی اینڈروکرنالوجسٹ نہیں ہے۔

موضوعات:



کالم



چانس


آپ مورگن فری مین کی کہانی بھی سنیے‘ یہ ہالی ووڈ…

جنرل عاصم منیر کی ہارڈ سٹیٹ

میں جوں ہی سڑک کی دوسری سائیڈ پر پہنچا‘ مجھے…

فنگر پرنٹس کی کہانی۔۔ محسن نقوی کے لیے

میرے والد انتقال سے قبل اپنے گائوں میں 17 کنال…

نارمل معاشرے کا متلاشی پاکستان

’’اوئے پنڈی وال‘ کدھر جل سیں‘‘ میں نے گھبرا…

آپ کی امداد کے مستحق دو مزید ادارے

یہ2006ء کی انگلینڈ کی ایک سرد شام تھی‘پارک میںایک…

بلوچستان میں کیا ہو رہا ہے (دوسرا حصہ)

بلوچستان کے موجودہ حالات سمجھنے کے لیے ہمیں 1971ء…

بلوچستان میں کیا ہو رہا ہے؟ (پہلا حصہ)

قیام پاکستان کے وقت بلوچستان پانچ آزاد ریاستوں…

اچھی زندگی

’’چلیں آپ بیڈ پر لیٹ جائیں‘ انجیکشن کا وقت ہو…

سنبھلنے کے علاوہ

’’میں خانہ کعبہ کے سامنے کھڑا تھا اور وہ مجھے…

ہم سیاحت کیسے بڑھا سکتے ہیں؟

میرے پاس چند دن قبل ازبکستان کے سفیر اپنے سٹاف…

تیسری عالمی جنگ تیار(دوسرا حصہ)

ولادی میر زیلنسکی کی بدتمیزی کی دوسری وجہ اس…