بدھ‬‮ ، 16 ستمبر‬‮ 2026 

پاکستان کی نصف آبادی موٹاپے کا شکار

datetime 9  مئی‬‮  2018 |

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) حال میں ہونے والے ایک سروے کے نتائج سے پتہ چلا ہے کہ پاکستان کی نصف آبادی موٹاپے کا شکار ہے، جس وجہ سے ذیابیطس میں بھی اضافہ ہوا ہے۔ یہ اپنی نوعیت کا پاکستان میں ہونے والا پہلا مکمل سروے ہے، جس کے ذریعے نہ صرف اضافی وزن کے افراد کی تعداد معلوم ہوسکی، بلکہ یہ بھی پتہ چلا کہ موٹاپے کی وجہ سے اور کون سی بیماریاں پاکستان میں سر اٹھا رہی ہیں۔

شائع خبر کے مطابق اپنی نوعیت کے پہلے سروے کے نتائج کو پاکستان اینڈوکرائن سوسائٹی (پی ای ایس) کے تعاون سے ہونے والے پانچویں اینڈوکرائن سیمپوزیم کے دوران لاہور میں پیش کیا گیا۔ موٹاپے سے نجات میں مددگار 5 مشروبات اس دوران خطاب کرتے ہوئے حیات آباد میڈیکل کمپلیکس، پشاور کے پروفیسرڈاکٹر اے ایچ عامر کا کہنا تھا کہ سروے کے نتائج ملک میں موٹاپے سے نمٹنے کے لیے اقدامات اٹھانے کا مطالبہ کر رہے ہیں، کیوں کہ وزن بڑھنے کے باعث ہی لوگ ذیابیطس میں مبتلا ہو رہے ہیں۔ ڈاکٹر عامر کا کہنا تھا کہ عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) نے عالمی سطح اور جنوبی ایشیائی خطے کے لیے باڈی ماس انڈیکس (بی ایم آئی) کی الگ الگ گائڈ لائنز بنا رکھی ہیں۔ سروے کے نتائج سے پتہ چلتا ہے کہ 29 فیصد آبادی مقررہ مقدار سے اضافی وزن کی حامل ہے۔ سروے میں موٹاپے کے شکار افراد کو تین مختلف کیٹیگریز میں رکھا گیا ہے، جن میں سے سب زیادہ افراد یعنی 31 فیصد موٹاپے کی ابتدائی کلاس، 13 فیصد دوسری کلاس جب کہ 7 فیصد تیسری کلاس کا شکار ہیں۔ موٹاپے سے بچاﺅ کے لیے 10 بہترین غذائیں رپورٹ کے مطابق مجموعی طور پر ملک کی نصف آبادی موٹاپے کا شکار ہے۔ ڈاکٹر عامر کا کہنا تھا کہ پاکستان کے مقابلے دنیا کی 19 فیصد آبادی کم موٹاپے کا شکار ہے، یعنی عالمی سطح پر صرف 31 فیصد آبادی موٹاپے کا شکار ہے، تاہم مقررہ مقدار سے زائد وزن رکھنے والی عالمی آبادی پاکستان سے زیادہ ہے جو 35 فیصد ہے۔

انہوں نے بتایا کہ موٹاپے کے باعث ہی لوگ ذیابیطس کا شکار ہو رہے ہیں، جب کہ ذیابیطس دل کا دورہ پڑنے کا اہم سبب ہوتا ہے۔ ڈاکٹرعامر کے مطابق ذیابیطس کی وجہ ہی 50 فیصد گردوں اور اتنی ہی آنکھوں کی بیماریاں ہوتی ہیں۔ موٹاپا کم ہو تو چربی کہاں جاتی ہے؟ انہوں نے بتایا کہ قریبا ملک کی ہردسویں خاتون ذیابیطس کا شکار ہے، جسے اس کے بچاؤ کے طریقہ کار سمیت اس کے علاج تک بھی رسائی نہیں ہے، جب کہ حاملہ خواتین میں ذیابیطس ہونے کے باعث پیدا ہونے والا ہر ساتواں بچہ بھی نظام ہاضمہ کی بیماریوں کا شکار بن رہا ہے۔ ساتھ ہی انہوں نے انکشاف کیا کہ پاکستان بھر میں صرف 60 اینڈروکرنالوجسٹ موجود ہیں، جب کہ بلوچستان میں ایک بھی اینڈروکرنالوجسٹ نہیں ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



صرف ایک شخص کے لیے


کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…