اتوار‬‮ ، 06 اپریل‬‮ 2025 

بچے مسلسل کھیل کود کے باوجود تھکتے کیوں نہیں؟ آسٹریلیا اور فرانس کے ماہرین کا حیران کن انکشاف

datetime 7  مئی‬‮  2018
ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

سڈنی(سی ایم لنکس)یقیناًآپ بھی بعض مرتبہ بچوں کے مسلسل کھیلنے، شرارتیں کرنے اور ڈانٹنے کے باوجود بھی ان کی جانب سے کھیل کود جاری رکھنے پر تنگ آجاتے ہوں گے۔اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ صرف آپ کے ہی بچے شرارتی ہیں، جو منع کرنے کے باوجود اپنا کھیل کود جاری رکھتے ہیں تو آپ غلط سمجھتے ہیں۔دراصل دنیا بھر کے تمام بچے ایسے ہی ہیں جو مسلسل کھیل کود کرنے کے باوجود بھی نہیں تھکتے۔

لیکن سوال یہ ہے کہ آخر بچے تھکتے کیوں نہیں؟اس سوال کا جواب ڈھونڈنے کے لیے آسٹریلیا اور فرانس کے ماہرین نے ایک تحقیق کی، جس کی رپورٹ سائنس جرنل ’فرنٹیئرز ان فزیولاجی‘ میں شائع ہوئی۔رپورٹ کے مطابق ماہرین نے بچوں اور بڑی عمر کے افراد کے درمیان تھکاوٹ کا موازنہ کرنے کے لیے نابالغ بچوں اور بڑی عمر کے افراد کے 2 گروپس بنائے، جنہیں ایکسرسائیز یا کھیل کود کے مختلف ہدف دیے گئے۔بچوں اور بڑوں کو دیے گئے اہداف کے بعد ان کا جسمانی معائنہ بھی کیا گیا اور یہ جاننے کی کوشش کی گئی کہ آخر بڑوں کے مقابلے بچے کیوں نہیں تھکتے؟رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ نتائج سے معلوم ہوا کہ نابالغ بچوں کے پٹھوں سمیت دیگر اعضاء میں تھکاوٹ کا احساس ہی موجود نہیں تھا، جس وجہ سے ایکسرسائیز یا کھیل کود کے دوران ان کا جسم مزید متحرک ہوجاتا۔ماہرین کے مطابق حیران کن طور پر بچے مشکل ٹاسک میں بھی بڑی عمر کے افراد کے مقابلے زیادہ دیر تک ایکسرسائیز کرتے رہے، جس وجہ سے ان کے پٹھوں سمیت دیگر اعضاء کو مزید متحرک پایا گیا۔رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ بڑی عمر کے افراد کے پٹھے اور دیگر جسمانی اعضاء میں تھکاوٹ ہوتی ہے، جس وجہ سے وہ تھوڑی بھی ایکسرسائیز کرنے کے بعد تھک جاتے ہیں۔نتائج سے یہ بھی پتہ چلا کہ نابالغ بچوں کے جسمانی اعضاء پروفیشنل ایتھلیٹ سے بھی زیادہ بہتر انداز میں کام کرنے کے قابل ہوتے ہیں۔ماہرین نے تجویز دی کہ نابالغ بچوں کی شرارتوں اور کھیل کود کو درست انداز میں استعمال کرنے کی ضرورت ہے، جس کے لیے والدین کو چاہیے کہ وہ اپنے بچوں کو بچپن سے ہی اسپورٹس مین بننے کی طرف راغب کریں۔رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ بلوغت سے قبل ہی بچوں کو پروفیشنل انداز میں اسپورٹس کی تربیت دی جائے، تاکہ وہ بالغ ہونے کے بعد ایک بہترین کھلاڑی بن کر سامنے آئیں۔

موضوعات:



کالم



زلزلے کیوں آتے ہیں


جولیان مینٹل امریکا کا فائیو سٹار وکیل تھا‘…

چانس

آپ مورگن فری مین کی کہانی بھی سنیے‘ یہ ہالی ووڈ…

جنرل عاصم منیر کی ہارڈ سٹیٹ

میں جوں ہی سڑک کی دوسری سائیڈ پر پہنچا‘ مجھے…

فنگر پرنٹس کی کہانی۔۔ محسن نقوی کے لیے

میرے والد انتقال سے قبل اپنے گائوں میں 17 کنال…

نارمل معاشرے کا متلاشی پاکستان

’’اوئے پنڈی وال‘ کدھر جل سیں‘‘ میں نے گھبرا…

آپ کی امداد کے مستحق دو مزید ادارے

یہ2006ء کی انگلینڈ کی ایک سرد شام تھی‘پارک میںایک…

بلوچستان میں کیا ہو رہا ہے (دوسرا حصہ)

بلوچستان کے موجودہ حالات سمجھنے کے لیے ہمیں 1971ء…

بلوچستان میں کیا ہو رہا ہے؟ (پہلا حصہ)

قیام پاکستان کے وقت بلوچستان پانچ آزاد ریاستوں…

اچھی زندگی

’’چلیں آپ بیڈ پر لیٹ جائیں‘ انجیکشن کا وقت ہو…

سنبھلنے کے علاوہ

’’میں خانہ کعبہ کے سامنے کھڑا تھا اور وہ مجھے…

ہم سیاحت کیسے بڑھا سکتے ہیں؟

میرے پاس چند دن قبل ازبکستان کے سفیر اپنے سٹاف…