منگل‬‮ ، 20 جنوری‬‮ 2026 

مصنوعی مٹھاس کا ایک اور نقصان سامنے آگیا

datetime 2  اپریل‬‮  2018 |

امریکا (مانیٹرنگ ڈیسک) جسمانی وزن کم کرنا چاہتے ہیں ؟ تو ہوسکتا ہے کہ بیشتر افراد اس مقصد کے لیے مصنوعی مٹھاس یا اسکرین پر مشتمل ڈائٹ غذاﺅں کا انتخاب کریں، مگر ایسا کرنا نہ صرف مقصد میں ناکامی کا باعث بنتا ہے بلکہ ذیابیطس کا شکار بھی بنا سکتا ہے۔ یہ بات امریکا میں ہونے والی ایک طبی تحقیق میں سامنے آئی۔ جارج واشنگٹن یونویرسٹی کی تحقیق میں بتایا گیا کہ مصنوعی مٹھاس کا اکثر استعمال میٹابولک سینڈروم (ذیابیطس اور امراض قلب سے قبل کا مرض) کا خطرہ بڑھا دیتا ہے۔

وہ حیرت انگیز غذائیں جو ذیابیطس کا شکار بنادیںمیٹابولک سینڈروم مختلف امراض جیسے ہائی بلڈ پریشر، ہائی بلڈ شوگر، نقصان دہ کولیسٹرول کی سطح میں کمی اور توند کی چربی کا مجموعہ ہوتا ہے۔ہر مرض ہی اپنی جگہ صحت کے لیے تباہ کن ثابت ہوتا ہے تاہم اگر ان میں سے 3 اکھٹے ہوجائیں تو امراض قلب کا خطرہ دوگنا جبکہ ذیابیطس کا 3 سے 5 گنا تک بڑھ جاتا ہے۔اگر متاثرہ شخص پہلے ہی موٹاپے کا شکار ہو تو اس کے لیے یہ خطرہ اس سے بھی کہیں زیادہ ہوتا ہے۔محققین نے اس تحقیق کے دوران کئی چیزوں کا جائزہ لیا اور ان کا کہنا تھا کہ اسٹیم سیل ریسرچ سے معلوم ہوا کہ مصنوعی مٹھاس خلیات میں چربی کے اکھٹا ہونے کا امکان بڑھاتی ہے۔ ذیابیطس کی خاموش علامات اور بچاؤ کی تدابیراسی طرح محققین نے مصنوعی مٹھاس استعمال کرنے والے 18 افراد کے نمونے اکھٹے کیے، جن میں سے  14 موٹاپے کے شکار تھے۔نتائج سے معلوم ہوا کہ مصنوعی مٹھاس فیٹ سیلز میں شکر کے استعمال کو بڑھا دیتی ہے جبکہ چربی بنانے والے جینز کو بڑھاتی ہے، جو کہ میٹابولک سینڈروم کا خطرہ بڑھانے والا عنصر ہے۔اس تحقیق کے نتائج Endocrine سوسائٹی کے سالانہ اجلاس کے موقع پر پیش کیے گئے۔

موضوعات:



کالم



تہران میں کیا دیکھا


ہمارا گروپ 25 دسمبر 2025ء کو تہران پہنچا‘ اسلام…

چھوٹی چھوٹی نیکیاں اور بڑے معجزے

اسلام آباد کا بائیس سالہ طالب علم طلحہ ظہور…

ونڈر بوائے

یہ بنیادی طور پر تین پاشائوں کی کہانی ہے‘ طلعت…

سہیل آفریدی کا آخری جلسہ

وہ جنرل کے سامنے بیٹھا‘ تھوڑی دیر دائیں بائیں…

ذورین نظامانی غلط نہیں کہہ رہا

والد صاحب نے مجھے پکڑ لیا‘ ان کے ہاتھ میں جوتا…

پرسی پولس

شیراز ریجن کا اصل کمال پرسی پولس (Persepolis) ہے‘ یہ…

سائرس یا ذوالقرنین

میرے سامنے پتھروں کی مستطیل عمارت تھی‘ فرش کے…

ایک دن ذوالقرنین کے مقبرے پر

میدان کی پچھلی جانب پہاڑ تھے‘ ان پر تازہ برف…

کام یابی کے دو فارمولے

کمرہ صحافیوں سے بھرا ہوا تھا‘ دنیا جہاں کا میڈیا…

وزیراعظم بھینسیں بھی رکھ لیں

جمشید رتن ٹاٹا بھارت کے سب سے بڑے کاروباری گروپ…

جہانگیری کی جعلی ڈگری

میرے پاس چند دن قبل ایک نوجوان آیا‘ وہ الیکٹریکل…