جمعرات‬‮ ، 24 ستمبر‬‮ 2026 

دل کی پیوندکاری پر شاندار تحقیق کرنے والے پاکستانی ڈاکٹر کو امریکہ میں لاکھوں ڈالرز سے نواز دیا گیا

datetime 14  مارچ‬‮  2018 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)پاکستان کے قابل اور مایہ ناز سپوت نہ صرف ملکی سطح پر بلکہ بیرون ملک بھی اپنی قابلیت کے جھنڈے گاڑھ رہے ہیں اور دنیا بھر میں پاکستان کی نیک نامی اور شہرت کا باعث بنتے ہیں۔ تازہ اطلاعات کے مطابق امریکہ میں مقیم پاکستانی سائنس دان ڈاکٹر فیصل چیمہ کو دل کی پیوند کاری میں جدید ترین تحقیق کے لیے 40 لاکھ ڈالر فنڈنگ کا اعزاز دیا گیا ہے

۔ٹیکساس ہارٹ انسٹی ٹیوٹ اور بیلر کالج آف میڈیسن سے وابستہ پاکستانی سرجن ڈاکٹر فیصل چیمہ اور ان کے ساتھی ڈاکٹر جیفری مورگن ہارٹ ٹرانسپلانٹ کی تعداد بڑھانے کے لیے انسانی اعضاکی افادیت اور قابل استعمال ہونے پر تحقیق کریں گے تاکہ ایسے ہزاروں مریضوں کو بچایا جاسکے جو ہارٹ ٹرانسپلانٹ کے لیے دل کی عدم دستیابی اور اس کے انتظام میں تاخیر کی وجہ سے موت کے منہ میں چلے جاتے ہیں۔یہ امدادی رقم ڈاکٹر فیصل اور ڈاکٹر جیفری عطیہ کردہ انسانی اعضاء بشمول جگر، پھیپھڑے، گردے اور دل کو کارآمد حالت میں محفوظ رکھنے اور ان کی پیوندکاری کے لیے نئے طریقوں کی دریافت پر تحقیق کے لیے خرچ کریں گے۔ڈاکٹر فیصل چیمہ کاپنجاب کے علاقے حافظ آباد سے تعلق ہے ، انہوں نے ابتدائی تعلیم کریسنٹ ماڈل اسکول سے حاصل کی اور پھر گورنمنٹ کالج لاہور میں زیر تعلیم رہے جس کے بعد وہ کراچی منتقل ہوگئے جہاں انہوں نے آغا خان یونیورسٹی سے گریجویشن کیا اور پھر اعلیٰ تعلیم کے لیے بیرون ملک چلے گئے۔انہوں نے کولمبیا یونیورسٹی، لویولا یونیورسٹی، جون ہوپکنس یونیورسٹی، یونیورسٹی آف میری لینڈ، یونیورسٹی آف کیلیفورنیا بارکلے سے ٹریننگ حاصل کی اور یہاںکام بھی کرتے رہے۔ اس وقت وہ ہیوسٹن میں بیلر کالج آف میڈیسن اینڈ ٹیکساس ہارٹ انسٹی ٹیوٹ میں بطور فیکلٹی ممبر ذمہ داریاںسرانجام دے رہے ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…