جمعرات‬‮ ، 24 ستمبر‬‮ 2026 

سائنسدانوں نے انسانی جسم کا ایک راز آخرکار جان لیا

datetime 14  مارچ‬‮  2018 |

امریکا  (مانیٹرنگ ڈیسک) کیا آپ نے کبھی سوچا کہ بیشتر افراد کو اپنے بچپن کی باتیں یاد کیوں نہیں رہتیں ؟ اگر کبھی یہ سوال ذہن میں آیا ہے تو آخرکار سائنسدانوں نے اس کا جواب ڈھونڈ نکالا ہے۔ درحقیقت بیشتر افراد کو 5 سال کی عمر سے پہلے کی باتیں یا یادیں، یاد نہیں رہتیں۔ یہ بات امریکا میں ہونے والی ایک طبی تحقیق میں سامنے آئی۔ عام عادتیں جو آپ کو دماغی طور پر مضبوط بنادیں اسے چائلڈ ہڈ ایمنیسیا کہا جاتا ہے ۔جس کا مطلب ہے کہ لوگ 3 سال یا اس سے پہلے کی باتوں کو یاد نہیں رکھ پاتے۔

اب سائنسدانوں نے دریافت کیا کہ بچپن میں دماغ زیادہ لچکدار ہوتا ہے اور کم وقت میں بہت زیادہ معلومات جذب کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے، مگر دماغ کے وہ حصے جو معلومات کو برقرار رکھتے ہیں، عمر کے ساتھ ساتھ ‘زیرتعمیر’ رہتے ہیں۔ پیدائش سے نوجوانی کے آغاز تک، دماغ میں ضروری سرکٹ یا برقی راستے انسانوں کے اندر یادوں کو برقرار رکھنے کی صلاحیت پیدا کرتے ہیں۔ اس عمل کے دوران بچپن کی یادیں ناقابل رسائی ہوجاتی ہیں کیونکہ نیورونز بالغ دماغ میں ساخت کو بدلتے ہیں۔ ایموری یونیورسٹی کی تحقیق میں بتایا گیا کہ طویل المعیاد توجہ کا عمل ہے۔ اس سے پہلے خیال کیا جاتا تھا کہ لوگ 7 سال کی عمر سے پہلے کی یادوں کو برقرار رکھنے میں ناکام رہتے ہیں۔ مگر پھر ایک تحقیق میں یہ بات سامنے آئی کہ ساڑھے 5 سال کی عمر کے بچوں کو 3 سال کی عمر کی 80 فیصد باتیں یاد ہوتی ہیں، تاہم جب وہ 7 سال کی عمر تک پہنچتے ہیں تو یہ شرح 40 فیصد رہ جاتی ہے۔ دماغ کو ہمیشہ اسمارٹ رکھنے میں مددگار عادات یعنی بچوں کو باتیں یاد ہوتی ہیں مگر یادیں وقت کے ساتھ مٹنے لگتی ہیں۔ تاہم اب سائنسدانوں نے اس کا جواب ڈھونڈ لیا ہے اور ان کے مطابق چیزیں یاد رکھنے یا بھول جانے کے لیے ضروری دماغی حصے ہپوکیمپس میں نئے نیورونز کی نشوونما بچپن کی باتوں کو بھلا دیتی ہے۔ محققین کا کہنا تھا کہ ہمارے خیال میں یہ رسائی کا مسئلہ ہے ، جب یادوں تک رسائی ناممکن ہوجاتی ہے تو وہ موثر طریقے سے ذہن سے خارج بھی ہوجاتی ہیں۔ دماغی نشوونما اور تنزلی کے اس عمل کے دوران بچپن کی جو یادیں باقی رہ جاتی ہیں، وہ درحقیقت ذہن میں کسی وجہ سے بار بار ابھرتی ہیں یا انہیں سنا ہوتا ہے یا خواب میں دیکھتے ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…