منگل‬‮ ، 20 جنوری‬‮ 2026 

خودکلامی کس مرض کی علامت؟

datetime 8  مارچ‬‮  2018 |

امریکا (مانیٹرنگ ڈیسک) آپ نے ایسے افراد تو دیکھیں ہوں گے جو اپنے آپ سے باتیں کرنے کے عادی ہوتے ہیں اور یہ جذباتی طور پر انتشار اور ڈپریشن کی نشانی ہوسکتی ہے۔یہ بات امریکا میں ہونے والی ایک طبی تحقیق میں سامنے آئی۔ ایریزونا یونیورسٹی کی تحقیق میں بتایا گیا کہ خودکلامی کرنے کے عادی ہونا نرگسیت کی علامت کی بجائے ڈپریشن کی نشانی ہوسکتی ہے۔

ذہنی صحت کے لیے 10 نقصان دہ عادات تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ اپنے آپ سے اکثر باتیں کرنا اور ذہنی الجھنوں کے درمیان تعلق موجود ہے۔ تحقیق کے مطابق جذباتی طور پر منفی اثرات مرتب ہونے سے جذباتی انتشار بڑھتا ہے جس سے ذہنی بے چینی، فکرمندی، تناﺅ اور ڈپریشن وغیرہ طاری ہوسکتے ہیں۔محققین نے دریافت کیا کہ جو لوگ اکثر خودکلامی کرتے ہیں وہ ڈپریشن کے شکار ہوسکتے ہیں مگر دیگر ذہنی عارضے بھی انہیں لاحق ہوسکتے ہیں۔اس تحقیق کے دوران امریکا اور جرمنی سے تعلق رکھنے والے 5 ہزار کے قریب افراد کے ڈیٹا کا تجزیہ کیا گیا۔ پاکستان میں ذہنی بیماریاں اور ہماری بے حسی نتائج سے معلوم ہوا کہ خودکلامی اور ڈپریشن کے درمیان تعلق موجود ہے اور پہلی بار اس بات پر تفصیلی روشنی ڈالی گئی ہے۔ محققین نے مزید بتایا کہ نتائج سے عندیہ ملتا ہے کہ خودکلامی ہوسکتا ہے کہ ڈپریشن کا تجزیہ کرنے کے لیے بہت زیادہ اچھا عنصر نہ ہو مگر یہ ذہنی مسائل کی جانب اشارہ ضرور ہوسکتا ہے اور اس حوالے سے تفصیلی تجزیے کی ضرورت ہوتی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ زندگی میں پیش آنے والی منفی واقعات ذہنی بے چینی بڑھاتے ہیں اور جب ان کے بارے میں لوگ سوچتے ہیں تو وہ اپنے آپ سے باتیں کرنے لگتے ہیں۔

موضوعات:



کالم



تہران میں کیا دیکھا


ہمارا گروپ 25 دسمبر 2025ء کو تہران پہنچا‘ اسلام…

چھوٹی چھوٹی نیکیاں اور بڑے معجزے

اسلام آباد کا بائیس سالہ طالب علم طلحہ ظہور…

ونڈر بوائے

یہ بنیادی طور پر تین پاشائوں کی کہانی ہے‘ طلعت…

سہیل آفریدی کا آخری جلسہ

وہ جنرل کے سامنے بیٹھا‘ تھوڑی دیر دائیں بائیں…

ذورین نظامانی غلط نہیں کہہ رہا

والد صاحب نے مجھے پکڑ لیا‘ ان کے ہاتھ میں جوتا…

پرسی پولس

شیراز ریجن کا اصل کمال پرسی پولس (Persepolis) ہے‘ یہ…

سائرس یا ذوالقرنین

میرے سامنے پتھروں کی مستطیل عمارت تھی‘ فرش کے…

ایک دن ذوالقرنین کے مقبرے پر

میدان کی پچھلی جانب پہاڑ تھے‘ ان پر تازہ برف…

کام یابی کے دو فارمولے

کمرہ صحافیوں سے بھرا ہوا تھا‘ دنیا جہاں کا میڈیا…

وزیراعظم بھینسیں بھی رکھ لیں

جمشید رتن ٹاٹا بھارت کے سب سے بڑے کاروباری گروپ…

جہانگیری کی جعلی ڈگری

میرے پاس چند دن قبل ایک نوجوان آیا‘ وہ الیکٹریکل…